ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد جہاں مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، وہیں مغربی فیمینسٹ حلقوں کی خاموشی بھی عالمی بحث کا موضوع بن چکی ہے۔ ایرانی نژاد قانونی ماہر اور برطانیہ کی رائل ہولوے یونیورسٹی میں لیکچرار ساحر مرانلو نے اپنے ایک تفصیلی مضمون میں سوال اٹھایا ہے کہ 2022 میں ایرانی خواتین کے احتجاج کے لیے آواز بلند کرنے والے حلقے آج انہی خواتین اور بچیوں کی ہلاکت پر خاموش کیوں ہیں؟
فیمینسٹ توجہ اور سیاسی بیانیے کا تضاد
الجزیرہ میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں ساحر مرانلو نے لکھا کہ فیمینسٹ توجہ ہمیشہ غیر جانبدار نہیں ہوتی، بلکہ اکثر سیاسی ترجیحات اور عالمی طاقتوں کے بیانیوں کے تحت تشکیل پاتی ہے۔ ان کے مطابق، 2022 اور 2023 میں “ویمن، لائف، فریڈم” تحریک کے دوران مغربی میڈیا، جامعات اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایرانی خواتین کے حجاب مخالف احتجاج کو عالمی نسوانی جدوجہد کے طور پر پیش کیا۔ دنیا بھر میں مہمات چلائی گئیں، سیمینارز منعقد ہوئے اور ایرانی خواتین کی تصاویر کو مزاحمت کی علامت بنا دیا گیا۔
تاہم مصنفہ کے مطابق 2026 میں منظرنامہ بالکل بدل چکا ہے۔ اب جب ایران پر حملوں کے نتیجے میں خواتین اور بچے مارے جا رہے ہیں، اسکول تباہ ہو رہے ہیں اور شہری آبادی شدید متاثر ہو رہی ہے، تو وہی عالمی فیمینسٹ نیٹ ورک مکمل طور پر خاموش دکھائی دیتا ہے۔
میناب کے اسکول کا المیہ اور عالمی دوہرا معیار
ساحر مرانلو نے جنوبی ایرانی شہر میناب میں ایک اسکول پر ہونے والے اندوہناک حملے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ وہاں 165 سے زائد بچے، جن میں زیادہ تر بچیاں شامل تھیں، جان سے گئے۔ ان کے مطابق، یہ بچے کسی جنگی محاذ پر نہیں بلکہ اپنی کلاسوں میں تعلیم حاصل کر رہے تھے جب میزائل حملے نے پورے اسکول کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا۔
انہوں نے لکھا کہ بچیوں کی کتابیں، بستے، خواب اور مستقبل سب کچھ ملبے تلے دب گیا، مگر اس سانحے نے عالمی سطح پر وہ غم و غصہ پیدا نہیں کیا جو 2022 کے احتجاج کے دوران دیکھنے میں آیا تھا۔ ان کے مطابق:
"اگر ایک کلاس روم میں بیٹھی بچیوں کی ہلاکت بھی فیمینسٹ مسئلہ نہیں تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر فیمینزم کن خواتین کے لیے آواز اٹھاتا ہے؟”
جنگ کے سماجی اثرات اور میڈیا کی ترجیحات
مصنفہ کے مطابق جنگ کبھی بھی غیر جانبدار نہیں ہوتی، اور خواتین و بچے ہمیشہ اس کے سب سے بڑے متاثرین بنتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں ماؤں کا اپنی بیٹیوں کی قبروں کے پاس راتیں گزارنا صرف ذاتی غم نہیں بلکہ جنگ کے تباہ کن سماجی اثرات کی علامت ہے۔ مگر یہ مناظر مغربی میڈیا میں اسی شدت سے جگہ نہیں پاتے، کیونکہ یہ اس مخصوص سیاسی بیانیے سے مطابقت نہیں رکھتے جس میں ایرانی خواتین کو صرف “ریاستی جبر” کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔
مغربی جامعات اور علمی اداروں کا کردار
ساحر مرانلو نے مغربی جامعات اور علمی اداروں کے کردار پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیاں بظاہر آزاد خیالی اور انسانی حقوق کی علامت سمجھی جاتی ہیں، مگر حقیقت میں وہ فنڈنگ، سیاسی تعلقات اور عالمی طاقتوں کے اثرات سے مکمل طور پر آزاد نہیں ہوتیں۔ ان کے مطابق، بہت سے محققین اور انسانی حقوق کے کارکن جنگ مخالف مؤقف اپنانے سے اس لیے ہچکچاتے ہیں کیونکہ اس سے ان کے کیریئر اور ادارہ جاتی حیثیت متاثر ہو سکتی ہے۔
جنگ کی مخالفت، ریاستی حمایت نہیں
مضمون کے آخر میں ساحر مرانلو نے اس تصور کو سختی سے مسترد کیا کہ جنگ کی مخالفت کرنا ایرانی حکومت کی حمایت کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق ایک شخص بیک وقت ریاستی جبر اور بیرونی عسکری حملوں دونوں کی مخالفت کر سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر فیمینزم صرف مخصوص سیاسی حالات میں خواتین کے حقوق کی بات کرے اور دوسری صورتوں میں مصلحتاً خاموش رہے، تو اس کی عالمگیریت اور انصاف کے دعوے کھوکھلے اور کمزور پڑ جاتے ہیں۔
