اسلام آباد: پاکستان کا دارالحکومت اس وقت مشرقِ وسطیٰ کے بحران کو حل کرنے کے لیے عالمی سفارتکاری کا سب سے اہم مرکز بن چکا ہے۔ پاکستانی قیادت کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان موجود طویل تعطل کو ختم کرنے کے لیے پسِ پردہ کوششیں فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔
عراقچی اور شہباز شریف ملاقات: ایرانی وفد کی واپسی
اسلام آباد میں موجود ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کی اہم سفارتی مصروفیات اپنے اختتام کو پہنچ رہی ہیں۔
- تازہ ترین پیش رفت کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ممکنہ امن پیش رفت کے حوالے سے ایک انتہائی اہم ملاقات مکمل ہو چکی ہے۔
- اس اعلیٰ سطحی مشاورتی ملاقات کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ ایرانی سفارتی وفد جلد واپس تہران روانہ ہو جائے گا۔
پاکستان کی مسلسل سفارتی کاوشیں اور آرمی چیف کا کردار
پاکستانی قیادت خطے کو بڑی جنگ سے بچانے کے لیے فرنٹ لائن پر متحرک ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان اس برف کو پگھلانے اور تعطل ختم کرنے کے لیے پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت ایک پیج پر ہے:
- فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ: واضح رہے کہ انھی سفارتی کوششوں کو حتمی شکل دینے کے لیے پاکستانی وفد نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سربراہی میں گزشتہ ہفتے ہی ایران کا ایک انتہائی اہم دورہ کیا تھا، جس نے موجودہ مذاکرات کی راہ ہموار کی۔
وائٹ ہاؤس کا اعلان: امریکی نمائندوں کی اسلام آباد آمد
ایرانی وفد کی روانگی کے ساتھ ہی وائٹ ہاؤس کی جانب سے ایک بڑی پیش رفت کا اعلان سامنے آیا ہے:
- امریکی صدر کے قریبی اور اعلیٰ نمائندے اسٹیو وٹکوف (Steve Witkoff) اور جیرڈ کشنر (Jared Kushner) اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔
- ان امریکی عہدیداروں کی پاکستان آمد نے اس تاثر کو مزید مضبوط کر دیا ہے کہ ‘شٹل ڈپلومیسی’ کے نتیجے میں کوئی بہت بڑی سفارتی پیش رفت قریب ہے۔
ایران کا مؤقف اور مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ
اگرچہ اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی وفود کی آمد و رفت سے امیدیں بڑھ رہی ہیں، لیکن تہران نے اپنا مؤقف سختی سے برقرار رکھا ہوا ہے:
- براہِ راست مذاکرات کی تردید: ایران نے فی الحال امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کے ‘براہِ راست مذاکرات’ (Direct Talks) کی سختی سے تردید کی ہے۔
- ایران کی شرط: تہران واضح کر چکا ہے کہ اگر امریکی معاشی ناکہ بندی اور سخت پابندیاں ختم نہ کی گئیں، تو وہ اس کا سخت ردعمل دے گا۔ سفارتی ماہرین کے مطابق، یہی معاشی ناکہ بندی اس وقت ایران-امریکا مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھی جا رہی ہے۔
جنگ بندی کے بعد کی تیاریاں: ترکیہ اور جرمنی کا کردار
دلچسپ اور مثبت بات یہ ہے کہ عالمی طاقتیں اب ممکنہ جنگ بندی کے بعد کے منظرنامے (Post-Ceasefire Scenario) کی عملی تیاریوں میں لگ گئی ہیں:
- آبنائے ہرمز کی صفائی: جرمنی اور ترکیہ نے عالمی تجارتی راستے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی صفائی کے مشن میں شمولیت پر باقاعدہ آمادگی ظاہر کر دی ہے۔
- یہ اقدام اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ دنیا ایک ممکنہ اور پائیدار معاہدے کی بھرپور توقع کر رہی ہے۔
