Turkiya-Logo-top

صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کا دورۂ چین: 75 سالہ سفارتی روابط، سی پیک اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع

اسلام آباد (25 اپریل 2026): صدرِ مملکت آصف علی زرداری چینی حکومت کی خصوصی دعوت پر آج سے یکم مئی تک چین کے 7 روزہ سرکاری دورے پر روانہ ہو گئے ہیں۔ دفترِ خارجہ کے مطابق یہ تاریخی دورہ پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ (پلاٹینم جوبلی) کے پرمسرت موقع پر ہو رہا ہے، جسے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک اعتماد کی تجدید قرار دیا جا رہا ہے۔

2024ء میں دوبارہ صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد صدر آصف علی زرداری کا چین کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہے۔

دورے کا شیڈول اور اہم مقامات

سفارتی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس بار دارالحکومت بیجنگ کے بجائے چین کے اہم تجارتی اور صنعتی صوبوں کا انتخاب ایک بڑی ‘اسٹریٹجک سوچ’ کا حصہ ہے تاکہ تعاون کو وفاقی سطح سے نکال کر براہِ راست چیمبرز آف کامرس اور نجی شعبے (B2B) تک لایا جا سکے۔

  • چانگشا، صوبہ ہنان (25 سے 27 اپریل): صدر مملکت اپنے دورے کا آغاز صوبہ ہنان کے دارالحکومت ‘چانگشا’ سے کریں گے۔ اسے چین کا انجینئرنگ مشینری کا دارالحکومت اور ‘ہائبرڈ رائس’ کا شہر کہا جاتا ہے۔ یہاں صدر زرعی ٹیکنالوجی، ہیوی انڈسٹری اور صوبائی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔
  • سانیا، صوبہ ہائنان (28 اپریل سے یکم مئی): اپنے دورے کے دوسرے مرحلے میں صدر ساحلی شہر ‘سانیا’ جائیں گے، جسے "مشرقی ہوائی” اور ہائنان فری ٹریڈ پورٹ کا مرکز کہا جاتا ہے۔ یہاں سیاحت، بلیو اکانومی (Blue Economy) اور فری ٹریڈ پورٹ اتھارٹی کے حکام سے ملاقاتیں طے ہیں۔

سی پیک فیز 2 اور معاشی ایجنڈا

اس دورے کا مرکزی محور پاک چین دوطرفہ تجارتی تعلقات کو وسعت دینا ہے۔ اہم ایجنڈا درج ذیل ہے:

  • سی پیک کا دوسرا مرحلہ: زراعت، صنعت، آئی ٹی، سائنس و ٹیکنالوجی، گرین انرجی اور اسپیشل اکنامک زونز (SEZs) کے منصوبوں کو حتمی شکل دی جائے گی۔
  • ڈیوٹی فری رسائی: پاکستان کی برآمدات کے لیے ہائنان فری ٹریڈ پورٹ کے ذریعے چینی منڈی تک ڈیوٹی فری رسائی کا معاہدہ ایجنڈے میں سرفہرست ہے۔
  • سرمایہ کاری کی دعوت: چینی نجی شعبے کو گوادر، کراچی اور پاکستان کے اسپیشل اکنامک زونز میں سرمایہ کاری کی دعوت دی جائے گی۔
  • تجارتی ہدف: دوطرفہ تجارت کا حجم اگلے 5 سالوں میں 30 ارب ڈالر تک لے جانے کا روڈ میپ پیش کیا جائے گا۔

پاک چین دوستی کے 75 سال: "آہنی بھائی” کا لازوال رشتہ

رواں سال 21 مئی 2026 کو پاک چین سفارتی تعلقات کو 75 برس مکمل ہو رہے ہیں۔ یہ وہ تعلق ہے جسے "پہاڑوں سے بلند، سمندروں سے گہرا، شہد سے میٹھا اور فولاد سے مضبوط” کہا جاتا ہے۔

شاہراہ قراقرم کی تعمیر میں بہنے والا دونوں قوموں کا خون، 2005 کے زلزلے اور 2022 کے سیلاب میں چینی امداد، کووڈ-19 میں ویکسین کا تحفہ، اور عالمی فورمز پر پاکستان کی جانب سے ‘ون چائنا پالیسی’ کی غیر مشروط حمایت اس بات کی گواہ ہے کہ یہ دوستی محض حکومتی سطح تک محدود نہیں بلکہ عوامی دلوں کا رشتہ ہے۔

دورے کے متوقع ثمرات اور معاہدے

دفترِ خارجہ کو قوی امید ہے کہ صدرِ مملکت کے اس دورے کے دوران درج ذیل شاندار نتائج حاصل ہوں گے:

  • زراعت، فشریز، سولر انرجی، ڈیجیٹل اکانومی اور سیاحت کے شعبوں میں 2.2 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کے معاہدے۔
  • 8 سے 10 مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط۔
  • ہائنان یونیورسٹی اور پاکستانی جامعات کے درمیان ‘سسٹر یونیورسٹی’ اور ‘یوتھ ایکسچینج پروگرامز’ کے معاہدے۔

یہ دورہ نہ صرف سی پیک (CPEC) کو ایک نئی اور تیز رفتار مہیا کرے گا، بلکہ یہ ثابت کرے گا کہ پاک چین شراکت داری جنوبی ایشیا کے معاشی و جغرافیائی نقشے پر آج بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

Read Previous

فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے ایرانی وزیر خارجہ کی اہم ملاقات

Read Next

گیلی پولی ، وہ جنگ جس نے جدید ترکیہ کی بنیاد ڈالی

Leave a Reply