Turkiya-Logo-top

ایک مفکر، ایک نظریہ، ایک صدی کی گونج: یوسف اقچورا کے خیالات آج بھی روشن

ترک قوم پرستی کے ممتاز مفکر اور دانشور یوسف اقچورا (Yusuf Akçura) کو جدید ترکیہ کی فکری بنیادوں کے اہم ترین معماروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ انھی کی فکر کا کمال تھا جس نے سلطنتِ عثمانیہ کے آخری دور سے لے کر جمہوریہ ترکیہ کے قیام تک ‘ترک اتحاد’ کے نظریے کو پروان چڑھایا اور ایک بکھرتی ہوئی قوم کو نئی سمت دکھائی۔

ابتدائی زندگی اور فکری سفر کا آغاز

یوسف اقچورا 2 دسمبر 1876 کو روس کے شہر سمبیر میں ایک معزز ترک خاندان میں پیدا ہوئے۔

  • استنبول منتقلی: کم عمری میں ہی والد کے انتقال کے بعد وہ اپنی والدہ کے ہمراہ استنبول منتقل ہو گئے، جہاں سے ان کی زندگی کے ایک نئے اور فیصلہ کن باب کا آغاز ہوا۔
  • تعلیم اور شعور: انہوں نے اپنی اعلیٰ تعلیم اور مسلسل فکری جدوجہد کے ذریعے ترک دنیا کے اتحاد کے نظریے کو محض ایک خواب سے نکال کر ایک منظم اور عملی شکل دی۔

"تین طرزِ سیاست” — فکری زندگی کا سنگِ میل

1904 میں قازان میں تحریر کیا گیا ان کا شہرہ آفاق مضمون "تین طرزِ سیاست” (Üç Tarz-ı Siyaset) ان کی فکری زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ اور سنگِ میل ثابت ہوا۔ اس تاریخی تحریر میں انہوں نے زوال پذیر سلطنتِ عثمانیہ کو بچانے کے لیے تین ممکنہ راستوں کا گہرا تجزیہ پیش کیا:

  1. عثمانیت (Ottomanism): تمام عثمانی شہریوں کو ایک قوم بنانا۔
  2. اسلامیت (Islamism): پوری دنیا کے مسلمانوں کو ایک مرکز پر اکٹھا کرنا۔
  3. ترکیت (Turkism): ترک نسل اور زبان کی بنیاد پر ترک دنیا کو متحد کرنا۔

اقچورا نے دلائل کے ساتھ ثابت کیا کہ عثمانیت اور اسلامیت کے مقابلے میں ‘ترک دنیا کا اتحاد’ ہی وہ واحد اور حقیقت پسندانہ راستہ ہے جو ترک قوم کو مستقبل میں ایک مضبوط اور پائیدار بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔

عملی سیاست اور حقوق کی جدوجہد

یوسف اقچورا صرف بند کمرے کے مفکر نہیں تھے، بلکہ انہوں نے عملی سیاست کے میدان میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔

  • روسی انقلاب (1905): اس دور میں انہوں نے روس میں بسنے والے مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے باقاعدہ ایک سیاسی جماعت قائم کی۔
  • صحافت اور شعور: مختلف اخبارات کے ذریعے ترک عوام میں سیاسی شعور بیدار کیا۔
  • نعرے کو عملی شکل: انہوں نے اسماعیل گاسپرنسکی کے مشہورِ زمانہ نعرے "زبان، فکر اور عمل میں اتحاد” کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی۔

جمہوریہ ترکیہ کا قیام اور قومی خدمات

جدید ترکیہ کے قیام کے دوران یوسف اقچورا جدید ترکیہ کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک کے قریبی اور بااعتماد رفقاء میں شامل رہے۔

1923 سے اپنی وفات تک وہ ترک قومی اسمبلی کے معزز رکن کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔ پارلیمنٹ میں ان کی ترجیحات واضح تھیں:

  • مزدوروں کے حقوق کا تحفظ
  • کسانوں کی مالی معاونت اور زرعی اصلاحات
  • قومی معیشت (National Economy) کو غیر ملکی تسلط سے آزاد کر کے مضبوط بنانا

ترک تاریخ کا فروغ اور آخری ایام

اپنی زندگی کے آخری برسوں میں یوسف اقچورا نے ‘ترک تاریخی سوسائٹی’ کے صدر کی حیثیت سے شاندار خدمات انجام دیں اور ترک تاریخ کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کیا۔

"انہوں نے بلقان سے لے کر چین کی عظیم دیوار تک پھیلی ترک دنیا کو ایک مشترکہ ثقافتی اور تاریخی وحدت قرار دیا تھا۔ آج ترک ریاستوں (Organization of Turkic States) کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات اور علاقائی تعاون ان کے اسی نظریے کی عملی اور زندہ مثال ہیں۔”

11 مارچ 1935 کو یہ عظیم مفکر اس دنیا سے رخصت ہو گیا، تاہم، یوسف اقچورا کے نظریات اور خدمات آج بھی ترک دنیا کو اتحاد، تعاون اور ترقی کے راستے پر گامزن رکھنے کے لیے ایک روشن چراغ کا کام کر رہے ہیں۔

Read Previous

یریوان میں ترک پرچم جلانے کا واقعہ: آرمینیائی وزیر اعظم کی سخت مذمت اور انتباہ

Read Next

ترکیہ کے لیے فخر کا لمحہ: نسرین باش یورپ کی نئی چیمپئن بن گئیں

Leave a Reply