اسلام آباد / استنبول (24 اپریل 2026): سلطنتِ عثمانیہ کے وارثین (آلِ عثمان) نے جنگ زدہ غزہ میں تعلیمی بحران کے شکار بچوں کے لیے ایک شاندار فلاحی قدم اٹھایا ہے۔ سلطان عبد الحمید ثانی کی تیسری نسل اور موجودہ عثمانی خاندان کے سربراہ شہزادہ ہارون عبدالکریم کے صاحبزادے، شہزادہ اورہان عثمان اوغلو کی زیرِ نگرانی شمالی غزہ میں "حمیدیہ اسکول” کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔
شہزادہ اورہان عثمان اوغلو، جو آلِ عثمان سے وابستہ ‘عثمان اوغلو فلاحی ادارے’ کے صدر بھی ہیں، نے اپنے سوشل میڈیا ہینڈل کے ذریعے اس عظیم منصوبے کا اعلان کیا۔
حمیدیہ اسکول کی تفصیلات اور مقام
یہ اسکول شمالی غزہ میں پناہ گزینوں کے کیمپوں اور اسرائیلی بمباری سے تباہ ہونے والے علاقوں کے مضافات میں قائم کیا گیا ہے۔


- موجودہ طلباء: اسکول نے اپنی باقاعدہ تعلیمی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں اور اس وقت تقریباً 400 بچے یہاں زیرِ تعلیم ہیں۔
منصوبے کے بنیادی مقاصد
اسکول کے قیام کا مقصد غزہ کے مظلوم بچوں کا مستقبل محفوظ بنانا ہے۔ اس کے چیدہ چیدہ مقاصد درج ذیل ہیں:
- اسرائیلی حملوں سے متاثرہ فلسطینی بچوں کو بلا تعطل تعلیم فراہم کرنا۔
- خطے میں پیدا ہونے والے شدید تعلیمی بحران کا مؤثر حل تلاش کرکے آنے والی نسلوں کی آبیاری کرنا۔
- شہداء کے یتیم بچوں اور انتہائی ضرورت مند گھرانوں کے بچوں کو داخلوں میں ترجیح دینا۔
سلطان عبدالحمید اور صدر ایردوان کی تصاویر کی تنصیب
اس پروجیکٹ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ غزہ میں موجود عثمان اوغلو فلاحی ادارے کے ورکرز اور اسکول کے اساتذہ کلاس رومز کی دیواروں پر سلطان عبدالحمید ثانی اور موجودہ ترک صدر رجب طیب ایردوان کی تصاویر آویزاں کر رہے ہیں۔



ویڈیو میں ورکرز کی جانب سے ننھے طلباء میں کھانے پینے کی اشیاء تقسیم کرتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ شہزادہ اورہان عثمان اوغلو نے ویڈیو کے ساتھ اپنے دلی جذبات کا اظہار یوں کیا:
"السلام علیکم! آج ہم نے حمیدیہ اسکول، جسے ہم نے حال ہی میں غزہ میں کھولا ہے، میں بقیہ کام مکمل کر لیا ہے۔ الحمدللہ! یہ اسکول اب مکمل طور پر ہماری ذمہ داری میں ہے۔ ہمارے غزہ کے یتیموں کے اس اسکول کے ذریعے، ہم انشاء اللہ ان کے لیے وہاں موجود رہیں گے۔ اللہ ہمیں غزہ میں مزید اسکول کھولنے کی توفیق عطا فرمائے۔”
یاد رہے کہ آلِ عثمان کے فلاحی اداروں کی جانب سے غزہ میں یہ پہلا منصوبہ نہیں ہے، بلکہ اس سے قبل بھی ان کی کئی امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
صدر ایردوان اور آلِ عثمان کا گہرا تعلق
حمیدیہ اسکول میں ترک صدر طیب ایردوان کی تصاویر لگانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ موجودہ آلِ عثمان اور صدر ایردوان کے درمیان گہرے ہمدردانہ اور نظریاتی روابط موجود ہیں۔
اس کی بنیادی وجہ صدر ایردوان کے اسلام پسند اقدامات اور عثمانی سلاطین و خلفاء کو فخر کے ساتھ اپنا آبا و اجداد ماننا ہے۔ اسی احترام کے پیشِ نظر صدر ایردوان اکثر عثمانی وارثین سے ملاقاتیں کرتے رہتے ہیں، جبکہ بدلے میں عثمانی خاندان بھی ان کی سیاسی اور نظریاتی حمایت کرتا دکھائی دیتا ہے۔
