اسلام آباد / سوست: پاکستان نے خطے میں ایک بڑی معاشی اور تزویراتی کامیابی حاصل کرتے ہوئے، چین کے راستے وسطی ایشیائی ریاستوں کو اپنی جنوبی بندرگاہوں سے جوڑنے والا نیا تجارتی روٹ باقاعدہ فعال کر دیا ہے۔ اس نئے روٹ کے تحت کرغیزستان سے تجارتی سامان کی پہلی کھیپ کامیابی کے ساتھ پاکستان پہنچ گئی ہے۔
اس اقدام کو پاکستان کو ایک مضبوط علاقائی تجارتی مرکز (ٹرانزٹ حب) بنانے کی جانب ایک بہت بڑی اور تاریخی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
خنجراب پاس اور کراچی پورٹ کا نیا کنکشن
یہ نیا اور جدید تجارتی روٹ پاک-چین سرحد پر واقع خنجراب پاس اور سوست ڈرائی پورٹ کے ذریعے فعال کیا گیا ہے۔
- اس محفوظ راہداری کے ذریعے وسطی ایشیائی ریاستوں کا تجارتی سامان براہِ راست کراچی پورٹ تک پہنچ سکے گا۔
- یہ خشکی سے گھرے (Landlocked) وسطی ایشیائی ممالک کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کا ایک انتہائی آسان اور متبادل راستہ ہے۔
افغانستان کو بائی پاس کرنے کی بڑی اسٹریٹجک وجہ
اس نئے تجارتی روٹ کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس میں روایتی راستے یعنی افغانستان کو مکمل طور پر بائی پاس کیا گیا ہے۔
- سیکیورٹی خدشات اور کشیدگی: یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی اور سیکیورٹی چیلنجز موجود ہیں۔
- روایتی راستوں میں رکاوٹیں: کابل کے راستے روایتی تجارتی راستوں کے بار بار متاثر ہونے کے باعث، پاکستان نے وسطی ایشیا تک محفوظ اور بلا تعطل رسائی کے لیے چین کے راستے کا انتخاب کیا ہے۔
پاکستان کے لیے شاندار معاشی فوائد
معاشی ماہرین اس نئے تجارتی روٹ کو پاکستان کی معیشت کے لیے ایک گیم چینجر قرار دے رہے ہیں۔ اس منصوبے کے درج ذیل نمایاں فوائد ہوں گے:
- علاقائی ٹریڈ حب: پاکستان خطے کی تجارت کا ایک مستحکم اور ناگزیر مرکز بن جائے گا۔
- آمدنی میں اضافہ: غیر ملکی ٹرکوں اور تجارتی سامان کی نقل و حمل پر ٹرانزٹ فیس وصولی کے ذریعے ملکی زرمبادلہ میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔
- سپلائی چین کی مضبوطی: محفوظ اور تیز ترین راستے سے سپلائی چین مستحکم ہوگی۔
- سرمایہ کاری کے مواقع: وسطی ایشیا کی مارکیٹ تک رسائی ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے نئے اور وسیع مواقع پیدا کرے گی۔
