Turkiya-Logo-top

امریکہ ایران جنگ بندی میں توسیع: پاکستان کی درخواست پر ایران کا اہم اور دو ٹوک ردعمل

تہران / واشنگٹن: ایران نے پاکستان کی جانب سے امریکہ کے ساتھ جاری دو ہفتے کی جنگ بندی میں توسیع کی درخواست پر اپنا باضابطہ ردعمل دے دیا ہے۔ تہران کا دو ٹوک مؤقف ہے کہ جنگ بندی یا سفارتکاری کے حوالے سے کوئی بھی حتمی فیصلہ صرف اور صرف قومی مفادات اور سلامتی کے تقاضوں کو مدنظر رکھ کر کیا جائے گا۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کا مؤقف: "مسلح افواج مکمل چوکس ہیں”

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بدھ کے روز جاری بیان میں واضح کیا کہ ایران خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی و سیکیورٹی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے چند اہم نکات پر زور دیا:

  • جائز دفاع: ترجمان نے واضح کیا کہ ایران نے اس جنگ کا آغاز نہیں کیا تھا، بلکہ تہران کی تمام کارروائیاں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جارحیت کے خلاف بین الاقوامی قوانین کے تحت "جائز دفاع” کے دائرے میں کی گئی ہیں۔
  • عسکری تیاریاں: انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کی مسلح افواج مکمل طور پر چوکس ہیں اور کسی بھی قسم کے خطرے یا دشمنانہ اقدام کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
  • سفارتکاری کی شرط: سفارتکاری قومی مفادات کے تحفظ کا ایک اہم ذریعہ ہے، لیکن اس کا استعمال صرف اسی وقت کیا جائے گا جب حالات سازگار اور برابری کی بنیاد پر ہوں۔

پاکستان کے ثالثی کردار کا اعتراف

ایران نے خطے میں امن کے قیام اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی مخلصانہ سفارتی کوششوں اور ثالثی کے کردار کو بھرپور انداز میں سراہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

اس سے قبل گزشتہ شب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم اعلان میں کہا تھا کہ وہ پاکستان کی خصوصی درخواست پر اس جنگ بندی میں غیر معینہ مدت کے لیے توسیع کر رہے ہیں۔

  • توسیع کی وجہ: ڈونلڈ ٹرمپ نے اس توسیع کی وجہ ایران کے اندر موجود "شدید تقسیم” کو قرار دیا۔
  • پابندیاں برقرار: ٹرمپ نے واضح کیا کہ جنگ بندی کے اعلان کے باوجود ایران کے خلاف سخت اقتصادی پابندیاں اور امریکی افواج کی عسکری تیاریاں معمول کے مطابق برقرار رہیں گی۔

Read Previous

نیٹو سربراہ کا دورہ ترکیہ: ترک دفاعی صنعت ‘انقلاب’ قرار، عالمی سیکیورٹی پر اہم مشاورت

Read Next

پاکستان کی سائنسی تاریخ میں نیا باب: دو پاکستانی نوجوان خلا باز چین کے خلائی مشن کے لیے منتخب

Leave a Reply