Turkiya-Logo-top

ترکش ریسلر ریزا کایالپ نے 13واں گولڈ میڈل جیت کر یورپی ریسلنگ کی تاریخ بدل دی

ترکش ریسلر ریزا کایالپ نے 13واں گولڈ میڈل جیت کر یورپی ریسلنگ کی تاریخ بدل دی

ترانہ (البانیا): ترکیہ کے عالمی شہرت یافتہ پہلوان ریزا کایالپ (Rıza Kayaalp) نے ایک بار پھر اپنی ناقابلِ شکست برتری ثابت کرتے ہوئے 2026 کی یورپی ریسلنگ چیمپئن شپ میں شاندار کامیابی حاصل کر لی ہے۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا 13واں گولڈ میڈل جیت کر یورپی ریسلنگ کی تاریخ میں ایک نیا اور ناقابلِ تسخیر ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔

فائنل مقابلے کی اہم جھلکیاں

ترانہ، البانیا میں ہونے والے اس میگا ایونٹ کے فائنل میں ریزا کایالپ کی کارکردگی شاندار رہی:

  • کیٹیگری: گریکو رومن (Greco-Roman) 130 کلوگرام ہیوی ویٹ کلاس۔
  • حریف پہلوان: ہنگری کے مایہ ناز ریسلر داریوس اتٹیلا وٹیک (Dáriusz Attila Vitek)۔
  • اسکور: ریزا نے یہ مقابلہ 7-1 کے واضح مارجن سے جیت کر گولڈ میڈل اپنے نام کیا۔

ایک بے مثال تاریخی سنگِ میل

یہ فتح صرف ایک اور میڈل نہیں بلکہ ریسلنگ کی دنیا کا ایک بہت بڑا تاریخی سنگِ میل ہے۔ اس جیت کے ساتھ ہی ریزا کایالپ یورپی ریسلنگ چیمپئن شپ کی تاریخ میں 13 گولڈ میڈلز جیتنے والے پہلے اور واحد ریسلر بن گئے ہیں۔

ان کی مسلسل کارکردگی اور غلبے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے مجموعی طور پر 15 یورپی فائنلز میں شرکت کی ہے، جن میں سے:

  • 13 میں گولڈ میڈل (پہلی پوزیشن) حاصل کیا۔
  • 2 مرتبہ سلور میڈل (دوسری پوزیشن) اپنے نام کیا۔

عمر محض ایک ہندسہ: 36 سال کی عمر میں شاندار فٹنس

36 سال کی عمر میں گریکو رومن ریسلنگ جیسے سخت اور طاقت طلب کھیل کی 130 کلوگرام کیٹیگری میں مسلسل حکمرانی کرنا ان کی غیر معمولی فٹنس، طاقت اور بہترین تکنیکی مہارت کا ثبوت ہے۔ ریزا کایالپ نے نہ صرف ترکیہ بلکہ پوری دنیا میں خود کو عظیم ترین ریسلرز کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔

اولمپکس کا شاندار ریکارڈ

یورپی سطح کے علاوہ ریزا کا اولمپک ریکارڈ بھی ان کی مستقل مزاجی کا گواہ ہے۔ وہ اب تک تین اولمپک میڈلز جیت چکے ہیں، جن میں 1 سلور اور 2 برانز میڈل شامل ہیں۔ یہ کامیابیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ وہ ہر بڑے عالمی ایونٹ کے پریشر کو سنبھالنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

Read Previous

ترکیہ میں COP31 سے قبل عالمی ماحولیاتی قیادت کا اعلیٰ سطحی اجلاس: نیا 5 سالہ لائحہ عمل تیار

Read Next

اسحاق ڈار اور برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات: پاکستان کی سفارتی کوششوں پر برطانیہ کا اظہارِ اعتماد

Leave a Reply