انقرہ: ترکیہ کی دفاعی صنعت نے بحری طاقت کے میدان میں ایک اور تاریخی سنگِ میل عبور کرنے کی جانب قدم بڑھا دیا ہے۔ ملک میں ایک ایسے جدید ملی ائیرکرافٹ کیریئر (طیارہ بردار جہاز) کی تعمیر تیزی سے جاری ہے، جو موجودہ فلیگ شپ جنگی جہاز TCG Anadolu سے بھی بڑا اور زیادہ جدید ہوگا۔ یہ عظیم الشان منصوبہ ترکیہ کی دفاعی خود کفالت کو ایک نئی بلندی پر لے جائے گا۔
منصوبے کی رفتار اور متوقع لانچ
ترک بحریہ کے کمانڈر، ایڈمرل اردجمنٹ تاتلی اوغلو (Ercüment Tatlıoğlu) نے اس منصوبے کی تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تعمیراتی مراحل شیڈول کے عین مطابق آگے بڑھ رہے ہیں۔
- اگر تمام مراحل اسی رفتار سے مکمل ہوئے، تو 2027 میں اس جدید ترین جنگی جہاز کو سمندر میں اتار دیا جائے گا، جس کے فوراً بعد اس کی عملی آزمائشیں (Sea Trials) شروع ہو جائیں گی۔
41 نئے جنگی جہازوں کی بیک وقت تعمیر
ایڈمرل تاتلی اوغلو کے مطابق، ترکیہ اب اپنی بحری طاقت کو علاقائی سطح سے نکال کر عالمی معیار تک لے گیا ہے۔ اس وقت ترکیہ کی مختلف سرکاری اور عسکری شپ یارڈز میں 41 جنگی جہازوں کی بیک وقت تعمیر جاری ہے، اور مستقبل قریب میں یہ تعداد 50 تک پہنچنے کی توقع ہے۔ ان میں شامل ہیں:
- جدید فریگیٹس اور کورویٹس (Frigates & Corvettes)
- مائن کلیئرنس جہاز (بارودی سرنگیں ناکارہ بنانے والے جہاز)
- تیز رفتار حملہ آور کشتیاں اور لینڈنگ پلیٹ فارمز
مقامی ہتھیار اور جدید ترین آبدوزیں
ترکیہ اب صرف جہازوں کے ڈھانچے نہیں بنا رہا، بلکہ مکمل جنگی ٹیکنالوجی اور سسٹمز مقامی طور پر تیار کر رہا ہے:
- ریئس کلاس آبدوزیں (Reis-Class): جدید ترین آبدوزیں ترک بحری بیڑے کا حصہ بن رہی ہیں، جبکہ مزید زیرِ تعمیر ہیں۔ ان میں جدید ریسکیو نظام بھی نصب ہے جو دوست ممالک کے اہلکاروں کی جان بچانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
- مقامی ہتھیار: کروز میزائل، ٹارپیڈو اور بحری بارودی سرنگیں اب بیرونی ممالک سے خریدنے کے بجائے سو فیصد ملکی سطح پر تیار کی جا رہی ہیں۔
مصنوعی ذہانت (AI) اور ‘اسمارٹ وار شپس’
ترکیہ کی شپ یارڈ انڈسٹری روایتی جہاز سازی سے آگے نکل چکی ہے۔ اب جدید ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کی مدد سے "اسمارٹ جنگی جہاز” تیار کیے جا رہے ہیں۔ یہ جہاز خودکار نظام، جدید نیویگیشن اور بے مثال آپریشنل صلاحیتوں سے لیس ہوں گے، جس میں انسانی عملے پر انحصار کم سے کم ہوگا۔
