انقرہ: ممتاز ترک رکن پارلیمنٹ علی شاہین نے ایک اہم اور تاریخی مطالبہ کرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ پاکستان کو "ترک ریاستوں کی تنظیم” (Organization of Turkic States) کا مکمل رکن بنایا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان موجود صدیوں پر محیط ثقافتی روابط اور بڑھتا ہوا جغرافیائی و سیاسی تعاون محض سفارتی تعلقات سے کہیں زیادہ گہرا اور وسیع ہے۔
"یہ ایک جینیاتی اور روحانی رشتہ ہے”
علی شاہین نے پاکستان اور ترکیہ کے تعلق کو محض دو ریاستوں کے درمیان ایک روایتی رشتہ ماننے سے انکار کرتے ہوئے اسے ایک "برادرانہ اور تاریخی بندھن” قرار دیا۔ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان موجود بے پناہ محبت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے ایک انتہائی جذباتی اور خوبصورت بات کہی:
"میرے نقطۂ نظر کے مطابق پاکستان اور ترکیہ کا تعلق ایک ‘جینیاتی رشتہ’ ہے، جس کے کوڈز اور علامتیں خود خدا نے لکھی ہیں۔ پاکستان میں پیدا ہونے والا ہر بچہ ترکیہ سے محبت لے کر پیدا ہوتا ہے، اور ترکیہ میں پیدا ہونے والا ہر بچہ پاکستان سے محبت کے ساتھ دنیا میں آتا ہے۔”
پاکستان کو ترک تنظیم میں کیوں شامل ہونا چاہیے؟
علی شاہین نے اپنے مطالبے کی حمایت میں چند انتہائی ٹھوس تاریخی، ثقافتی اور روحانی وجوہات پیش کیں:
- لسانی اور تاریخی اثرات: اردو زبان کی تشکیل میں ترک زبان کے اثرات نمایاں ہیں۔ خود لفظ "اردو” ایک ترک لفظ "اوردو” سے نکلا ہے۔ برصغیر میں ترک اور وسطی ایشیائی خاندانوں کی طویل حکمرانی نے اس خطے کے انتظامی اور سماجی ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔
- فکری اور روحانی ہم آہنگی: دونوں اقوام کے درمیان ایک گہرا روحانی تعلق موجود ہے۔ اس کی سب سے بڑی اور واضح مثال مفکرِ پاکستان علامہ محمد اقبالؒ اور مولانا جلال الدین رومیؒ کا فکری ربط ہے۔
- تحریکِ خلافت کا تاریخی کردار: تاریخ گواہ ہے کہ تحریک خلافت کے مشکل دور میں برصغیر کے مسلمانوں نے ترک عوام کے ساتھ جس بے مثال یکجہتی کا اظہار کیا، وہ آج بھی دونوں اقوام کے درمیان جذباتی تعلق کی سب سے مضبوط بنیاد سمجھا جاتا ہے۔
- جدید دور کا مضبوط تعاون: موجودہ دور میں بھی پاکستان اور ترکیہ دفاعی، تعلیمی، اور سفارتی شعبوں میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، جسے ماہرین اس تاریخی تعلق کی جدید اور عملی شکل قرار دیتے ہیں۔
