خلیجِ عمان: آبنائے ہرمز کے قریب ایک سنسنی خیز واقعے میں امریکی بحریہ نے ایک منظم کارروائی کرتے ہوئے ایرانی پرچم بردار کارگو جہاز کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ اس غیر معمولی اقدام کے بعد خطے میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔
امریکی کارروائی کیسے عمل میں آئی؟
امریکی حکام اور سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، یہ کارروائی کئی گھنٹوں کی کشیدگی کے بعد کی گئی:
- مسلسل وارننگز: جہاز کو لگ بھگ 6 گھنٹے تک ریڈیو پیغامات کے ذریعے مسلسل وارننگز دی گئیں اور عملے کو رکنے کی ہدایات کی گئیں، جنہیں مبینہ طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔
- ہیلی کاپٹر کے ذریعے آپریشن: اتوار کے روز امریکی میرینز ‘یو ایس ایس ٹرپولی’ (USS Tripoli) حملہ آور جہاز سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے روانہ ہوئے اور رسیوں کی مدد سے ایرانی جہاز ‘توسکا’ (Tosca) پر اترے۔
- انجن روم پر حملہ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق، وارننگز کو نظر انداز کرنے پر جنگی جہاز نے کارگو جہاز کے انجن روم کو نشانہ بنایا، جس سے جہاز حرکت کے قابل نہ رہا اور سمندر کے بیچوں بیچ رک گیا۔
- عملہ اور سامان تحویل میں: جہاز کے رکتے ہی امریکی میرینز نے اس پر چڑھائی کر کے مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔ جہاز کے عملے اور سامان کو تحویل میں لے کر مکمل تلاشی اور تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ویڈیو ثبوت اور امریکی موقف
امریکی سینٹرل کمانڈ نے کارروائی کے بعد ایک ویڈیو فوٹیج بھی جاری کی ہے جس میں امریکی بحری جہاز کو ایرانی کارگو شپ کی سمت میں فائرنگ کرتے اور اسے روکتے ہوئے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ‘توسکا’ نامی یہ جہاز پہلے ہی سے پابندیوں کی فہرست (Sanctions List) میں شامل تھا، جس کی وجہ سے یہ کارروائی ناگزیر تھی۔
ایران کا سخت ردعمل: "یہ مسلح بحری قزاقی ہے”
دوسری جانب ایران نے اس امریکی اقدام کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے کھلی جارحیت اور حال ہی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ایران کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے اس واقعے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا:
"امریکہ نے جارحانہ اقدام کرتے ہوئے نہ صرف جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے بلکہ بین الاقوامی سمندری حدود میں غیر قانونی کارروائی بھی کی ہے۔ ہم اس اقدام کو ‘مسلح بحری قزاقی’ (ڈکیتی) سمجھتے ہیں اور ایران کی مسلح افواج اس کا بھرپور جواب دینے کا حق محفوظ رکھتی ہیں۔”
