Turkiya-Logo-top

انطالیہ ڈپلومیسی فورم: ترک وزیر خارجہ کی مصر، پاکستان اور سعودی عرب کے ہم منصبوں سے ملاقات

انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر ترکیہ، پاکستان، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ کی ایک ساتھ کھڑے ہو کر گروپ فوٹو

ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان نے جمعہ کے روز انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر مصر، پاکستان اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ایک اہم سہ فریقی ملاقات کی میزبانی کی۔ یہ ان وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی تیسری ملاقات تھی، جس کا مقصد علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔


انطالیہ ڈپلومیسی فورم کا پس منظر

یہ فورم ترکیہ کے شہر انطالیہ میں صدر رجب طیب ایردوان کی سرپرستی میں منعقد ہو رہا ہے۔

  • موضوع: اس سال فورم کا مرکزی عنوان "مستقبل کی سمت کا تعین اور غیر یقینی صورتحال کا انتظام” رکھا گیا ہے۔
  • دورانیہ: یہ بین الاقوامی فورم جمعہ سے اتوار تک جاری رہے گا جس میں دنیا بھر کے اعلیٰ حکومتی عہدیدار شریک ہیں۔

علاقائی امن اور جنگ بندی کی کوششیں

وزیر خارجہ حاقان فیدان نے فورم سے خطاب کے دوران خطے میں پائیدار امن کی ضرورت پر زور دیا:

پاک-امریکہ-ایران سفارت کاری

فیدان نے انکشاف کیا کہ پاکستان کی کوششوں سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی کوششیں جاری ہیں۔

  • 8 اپریل کی جنگ بندی: انہوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی 14 روزہ جنگ بندی کا حوالہ دیا جو ایک اہم پیش رفت ہے۔
  • پاکستان کا کردار: اسلام آباد میں ہونے والے پہلے دور کے مذاکرات میں کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچ پانے کے باوجود، پاکستان اب بھی دونوں ممالک کو میز پر لانے کے لیے سرگرم ہے۔

مستقل امن کی خواہش

ترک وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ موجودہ عارضی جنگ بندی کو ایک پائیدار اور مستقل امن میں تبدیل کیا جائے گا تاکہ خطے میں جاری کشیدگی کا خاتمہ ہو سکے۔


عالمی بحران اور غیر یقینی صورتحال

حاقان فیدان نے عالمی برادری کو خبردار کرتے ہوئے کہا:

  1. دنیا اس وقت کثیر الجہتی خطرات کی زد میں ہے جو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
  2. موجودہ دور کی سب سے بڑی پہچان غیر یقینی صورتحال اور بحران بن چکے ہیں۔
  3. ان حالات میں عالمی تعاون اور موثر سفارت کاری ناگزیر ہے۔

اہم نوٹ: اگرچہ مصر، پاکستان اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کی اس تیسری ملاقات کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس کے اندرونی ایجنڈے اور گفتگو کی تفصیلی تفصیلات تاحال عام نہیں کی گئیں۔

Read Previous

آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول اور مذاکراتی عمل: اہم پیش رفت

Leave a Reply