Turkiya-Logo-top

آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول اور مذاکراتی عمل: اہم پیش رفت

ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے واضح کیا ہے کہ تہران تزویراتی اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز پر اپنی سخت نگرانی اور عملی کنٹرول برقرار رکھے گا۔ یہ فیصلہ امریکہ اور اسرائیل کی مبینہ جارحانہ کارروائیوں کے جواب میں کیا گیا ہے۔


مذاکرات کی ناکامی اور پاکستان کا کردار

ایران نے پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے درج ذیل نکات واضح کیے ہیں:

  • ثالثی کا آغاز: امریکہ کی جانب سے مذاکرات کی درخواست پر ایران نے پاکستان کے مجوزہ فریم ورک کے تحت بات چیت پر آمادگی ظاہر کی۔
  • تعطل کی وجہ: ایرانی وفد کے مطابق، مذاکرات اس وقت ناکام ہوئے جب مخالف فریق نے اضافی اور غیر متوقع مطالبات سامنے رکھے، جنہیں تہران نے مسترد کر دیا۔
  • موجودہ صورتحال: پاکستان کی وساطت سے نئی تجاویز موصول ہوئی ہیں جو فی الحال تہران میں زیرِ غور ہیں۔

جنگ بندی کی شرائط اور لبنان کا محاذ

ایران نے حالیہ سفارتی پیش رفت کو لبنان کی صورتحال سے مشروط کیا ہے:

  1. جامع فائر بندی: ایران کے مطابق عارضی جنگ بندی کی بنیادی شرط تمام محاذوں بشمول لبنان پر حملوں کا خاتمہ تھی۔
  2. اسرائیلی رضامندی: ایرانی دباؤ کے نتیجے میں اسرائیل نے لبنان میں جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
  3. مشروط رسائی: اگر تمام محاذوں پر جنگ بندی کی پاسداری کی گئی، تو آبنائے ہرمز کو صرف تجارتی جہازوں کے لیے محدود اور مشروط طور پر کھولا جائے گا۔

آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا طریقہ کار

کونسل نے واضح کیا ہے کہ اس سمندری گزرگاہ پر نگرانی کا نظام انتہائی سخت ہوگا جس میں درج ذیل اقدامات شامل ہیں:

نگرانی کے ضوابط

  • جہازوں کی مکمل معلومات اور ڈیٹا کا حصول۔
  • ایرانی قوانین کے مطابق ٹرانزٹ اجازت نامے کا اجراء۔
  • سیکیورٹی اور ماحولیاتی خدمات کے عوض فیس کی وصولی۔
  • ایران کی جانب سے متعین کردہ مخصوص راستوں پر آمد و رفت کی پابندی۔

اہم نوٹ: امریکی فوجی اڈوں تک رسد کی منتقلی کو ایران اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے، اس لیے فوجی اور غیر دوستانہ ممالک کے جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔


حالیہ سفارتی پیش رفت اور ٹرمپ کا ردعمل

گزشتہ روز ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک اہم بیان میں کہا کہ لبنان میں جنگ بندی کے بعد تمام تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے آزادانہ گزرنے کی اجازت ہوگی۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے تہران کا شکریہ بھی ادا کیا ہے، جو خطے میں کشیدگی کی کمی کی جانب ایک اہم اشارہ ہو سکتا ہے۔

Read Previous

ایران امریکا مذاکرات کا اگلا دور تعطل کا شکار

Read Next

انطالیہ ڈپلومیسی فورم: ترک وزیر خارجہ کی مصر، پاکستان اور سعودی عرب کے ہم منصبوں سے ملاقات

Leave a Reply