ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے ایران، امریکا مذاکرات حتمی نتیجے تک اس لیے نہیں پہنچ سکے کیونکہ واشنگٹن نے مذاکرات کے دوران نیک نیتی کا مظاہرہ نہیں کیا ان کے مطابق امریکا نے بات چیت کے بجائے زیادہ سے زیادہ مطالبات پر اصرار کیا جس سے پیش رفت رک گئی
ایرانی صدر نے یہ بات فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران کہی گفتگو میں خطے کی صورتحال، ایران امریکا کشیدگی اور سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا
پزشکیان کے مطابق یورپی ممالک خاص طور پر فرانس، امریکا کو بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور تعمیری مذاکرات کی طرف لانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے ایرانی صدر نے الزام عائد کیا کہ مذاکرات کے دوران امریکا نے زیادہ سے زیادہ مطالبات پیش کیے، لچک کا مظاہرہ نہیں کیااور مذاکرات کو مثبت سمت میں نہیں جانے دیا
ان کے مطابق اس رویے کی وجہ سے اسلام آباد مذاکرات کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے
مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ دھمکیوں، دباؤ اور ممکنہ فوجی کارروائی سے خطے کے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ مزید پیچیدہ ہو جائیں گے انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات صرف امریکا کے خود ساختہ بحرانوں میں اضافہ کریں گے اور خطے کے امن کو خطرے میں ڈالیں گے
ایرانی صدر کے مطابق تنازعات کے حل کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری ہے انہوں نے زور دیا کہ بات چیت اور مذاکرات کو ترجیح دے کر ہی پائیدار حل حاصل کیا جا سکتا ہے واضح رہے کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی تھی، اور پہلا مرحلہ 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہوا تھا دونوں ممالک کے وفود کے درمیان تقریباً 21 گھنٹے طویل مذاکرات ہوئے تاہم یہ بات چیت کسی حتمی معاہدے یا ڈیل کے بغیر ختم ہو گئی تھی
