ترکیہ کے وسطی تاریخی شہر قیصری کی مشہور روایتی گوشت سے تیار کردہ غذا قیصری پاسترما کو یورپی یونین کی جانب سے باضابطہ جغرافیائی اشاریہ تحفظ (جی آئی) حاصل ہو گیا ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف قیصری بلکہ پورے ترکیہ کے لیے ایک اہم سفارتی، ثقافتی اور تجارتی کامیابی قرار دی جا رہی ہے، جس سے مقامی غذائی ورثے کو عالمی سطح پر مزید مضبوط شناخت ملے گی۔
یورپی یونین کے ترکیہ میں وفد نے اپنے باضابطہ بیان میں اعلان کیا کہ “قیصری پاسترما” کو یورپی یونین کے جغرافیائی اشاریہ رجسٹر میں شامل کر لیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ یہ ترکیہ کی 46ویں مصنوعات بن گئی ہے جسے یورپی منڈی میں قانونی اور بین الاقوامی تحفظ حاصل ہوا۔
یہ روایتی غذائی مصنوعات گائے کے گوشت سے تیار کی جاتی ہے، جسے مخصوص مصالحہ جات، خشک کرنے کے منفرد طریقۂ کار اور قیصری کے موسمی حالات کے مطابق محفوظ کیا جاتا ہے۔ یہی خصوصیات اسے دوسرے گوشت سے بنی مصنوعات سے ممتاز بناتی ہیں اور اس کی پہچان کو براہِ راست قیصری کے خطے سے جوڑتی ہیں۔
ترکیہ کی یونین آف چیمبرز اینڈ کموڈیٹی ایکسچینجز کے صدر رفعت حصار جقلی اوغلو نے اس کامیابی کو اپنے آبائی شہر اور ملک کے لیے باعثِ فخر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ رجسٹریشن کے دوران متعدد باضابطہ اعتراضات سامنے آئے، تاہم ماہرین اور قانونی ٹیموں نے مسلسل محنت اور مؤثر دلائل کے ذریعے اس عمل کو کامیابی سے مکمل کیا۔
انہوں نے کہا، “یہ کامیابی قیصری کے لیے خوش آئند ہے اور ترکیہ کے روایتی ذائقوں کو عالمی سطح پر محفوظ بنانے کی کوششوں میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔”
ماہرین کے مطابق یورپی یونین کا جغرافیائی تحفظ کسی بھی مصنوعات کے معیار، شہرت اور مخصوص علاقائی شناخت کو قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اس سے نہ صرف اس کی نقل اور غیر مجاز استعمال روکا جا سکتا ہے بلکہ یورپی منڈیوں میں اس کی تجارتی قدر اور برآمدی مواقع بھی نمایاں طور پر بڑھ جاتے ہیں۔
یہ کامیابی ترکیہ کی ان وسیع کوششوں کا حصہ ہے جن کے تحت مقامی اور روایتی خوراکوں کو عالمی سطح پر تسلیم کروایا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق اس وقت بھی 46 مزید ترک مصنوعات کی جغرافیائی اشاریہ درخواستیں اور دو روایتی خصوصیت کے نام یورپی یونین میں زیرِ غور ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قیصری پاسترما کو یہ درجہ ملنے سے نہ صرف مقامی معیشت، مویشی بانی اور خوراک کی صنعت کو فروغ ملے گا بلکہ ترکیہ کے روایتی ذائقے یورپی صارفین تک زیادہ مؤثر انداز میں پہنچ سکیں گے۔ یہ کامیابی ملک کے ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے اور بین الاقوامی تجارتی برتری حاصل کرنے کی سمت ایک مضبوط قدم سمجھی جا رہی ہے۔
