Turkiya-Logo-top

یونیسکو اجلاس میں ترکیہ کی تعلیمی اصلاحات عالمی کامیابی کی مثال بن گئیں

پیرس میں یونیسکو کے ہیڈکوارٹر میں منعقدہ اجلاس میں ترکیہ کی تعلیمی پیش رفت کو عالمی سطح پر ایک کامیاب ماڈل کے طور پر سراہا گیا، جہاں ماہرین نے کہا کہ مسلسل نظام، پائیدار حکمتِ عملی اور طویل المدتی پالیسیوں کے ذریعے قابلِ پیمائش کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو نے 25 مارچ کو اپنے صدر دفتر میں 2026 گلوبل ایجوکیشن مانیٹرنگ رپورٹ کی تقریبِ رونمائی کا اہتمام کیا۔ اس موقع پر “تعلیم میں رسائی اور مساوات” کے عنوان سے منعقدہ پینل میں ترکیہ کی نمائندگی نائب وزیر تعلیم محمد بلال ماجت نے کی۔

محمد بلال ماجت نے گزشتہ 23 برسوں کے دوران ترکیہ میں تعلیم کے شعبے میں ہونے والی نمایاں پیش رفت کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے ملک بھر میں تعلیم تک رسائی بڑھانے کے لیے متعارف کرائی گئی خدمات، اصلاحات اور پالیسی اقدامات کی مثالیں دیں۔

اجلاس کے مختلف سیشنز میں ترکیہ کی تعلیمی اصلاحات کو ایک “روشن مثال” قرار دیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ مربوط، مؤثر اور دیرپا نظام کی تشکیل نے ترکیہ کو کامیابی کی راہ پر گامزن کیا اور اسے ایک “کامیابی کی داستان” بنا دیا۔

او ای سی ڈی کے ڈائریکٹر برائے تعلیم اینڈریاس شلائشر نے عالمی تعلیمی چیلنجز پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اگرچہ 2030 کے اہداف بہت بلند رکھے گئے ہیں، دنیا اب بھی ان کے حصول سے کافی دور ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ترکیہ سمیت چند ممالک کی مثالیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ مسلسل کوششوں سے پیش رفت ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترکیہ نے کوئی جادوئی حل نہیں ڈھونڈا بلکہ ایک مضبوط اور مربوط نظام قائم کیا، مقامی وسائل کو متحرک کیا، تعلیم کو پائیدار بنایا اور افرادی قوت کی بہتری کے لیے ایسی پالیسیاں اپنائیں جن کے نتیجے میں بہتر مہارتیں، بہتر روزگار اور بہتر زندگی میسر آئی۔

یونیسکو کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل برائے تعلیم اور سابق اطالوی وزیر تعلیم اسٹیفانیا جیانینی نے بھی ترکیہ کو ایک کامیاب مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ مؤثر نتائج کے لیے صرف ایک شعبے میں نہیں بلکہ مالی وسائل، انسانی سرمایہ اور بنیادی ڈھانچے سمیت جامع حکمتِ عملی ضروری ہوتی ہے۔

اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ترکیہ کا ماڈل دیگر ممالک کے لیے ایک عملی مثال بن سکتا ہے، جہاں مستقل مزاجی، جامع منصوبہ بندی اور دیرپا پالیسیوں کے ذریعے تعلیمی شعبے میں نمایاں تبدیلی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔

Read Previous

ٹکا پاکستان کی سربراہ صالحہ تونا کی ASELSAN کے نمائندے سے ملاقات، ملک میں ترقیاتی تعاون پر تبادلہ خیال

Read Next

ترکیہ کے غذائی ورثے کی عالمی سطح پر بڑی کامیابی ،ترکیہ کی روایتی غذا قیصری پاسترما کو یورپی یونین میں قانونی تحفظ مل گیا

Leave a Reply