ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ترکیہ ایران اور امریکہ۔اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں ملک کو شامل کرنے کی کسی بھی سازش سے باخبر ہے اور ملک کو اس خطرناک صورتحال سے دور رکھنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ استنبول میں منعقدہ ملّی ارادہ پلیٹ فارم کے افطار پروگرام سے خطاب میں صدر اردوان نے غزہ کی پٹی میں جاری انسانی المیے اور اسرائیل کی مغربی کنارہ میں کاروائیوں کا ذکر کیا اور کہا کہ رمضان المبارک امن اور رحمت کا مہینہ ہے، لیکن آج اسلامی دنیا کے کئی خطے جنگ، خونریزی اور تباہی کی لپیٹ میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ غزہ میں حالیہ مہینوں میں سینکڑوں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جن میں بڑی تعداد بچے، خواتین اور بزرگ شامل ہیں، اور خطے کے دیگر علاقوں جیسے ایران، یمن، سوڈان اور صومالیہ میں بھی انسانی بحران شدت اختیار کر چکا ہے، جبکہ عالمی برادری کی خاموشی تشویش ناک ہے۔ صدر اردوان نے کہا کہ ترکیہ مظلوموں کے ساتھ کھڑا ہے اور فلسطین، افریقہ اور لاطینی امریکہ تک ضرورت مندوں کی مدد کے لیے سرکاری اور غیر سرکاری ادارے کام کر رہے ہیں اور دنیا بھر کے مظلوموں کے ساتھ یکجہتی جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خطے میں فرقہ وارانہ اور نسلی بنیادوں پر اشتعال انگیزی کی کوششیں کی جا رہی ہیں، اس لیے عوام ہوشیار رہیں، اور بتایا کہ ترکیہ اپنی ریاستی حکمت اور تجربے کی بنیاد پر خطے کی پیچیدہ صورتحال کا بغور جائزہ لے رہا ہے اور فضائی حدود سمیت ہر ممکن حفاظتی اقدامات جاری ہیں۔ آخر میں صدر اردوان نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح یہ ہے کہ ترکیہ کو جنگ اور انتشار کے اس آگ کے گڑھے سے ہر صورت دور رکھا جائے۔
