انقرہ — ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ ترکیہ زمین اور سمندر دونوں میں آثارِ قدیمہ کی دریافت میں دنیا کی قیادت کر رہا ہے اور اس شعبے میں عالمی سطح پر نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہا ہے۔ان کا یہ بیان انقرہ کے صدارتی محل میں منعقدہ بین الاقوامی آثارِ قدیمہ سمپوزیم کے افتتاح کے موقع پر سامنے آیا، جہاں دنیا بھر سے 250 سے زائد ماہرینِ آثارِ قدیمہ شریک ہوئے، جن میں 29 غیر ملکی محققین بھی شامل ہیں۔ سمپوزیم میں 33 علمی مقالات پیش کیے جائیں گے، جن میں سے 17 بیرونِ ملک سے آئے ماہرین پیش کریں گے۔صدر ایردوان نے بتایا کہ 2002 سے اب تک 13,291 تاریخی نوادرات وطن واپس لائے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا:”ہمارے ماہرین پہلے اپنے ملک کے ہر کونے کا جائزہ لیں گے، پھر دنیا کے ہر اس مقام کا جہاں ترک قدم پہنچا ہے، اور وہاں موجود ثقافتی ورثے کا تحقیقی ریکارڈ مرتب کریں گے۔”اس موقع پر "گولڈن ایج آف آرکیالوجی” کے عنوان سے ایک شاندار نمائش کا بھی آغاز ہوا، جس میں 485 نایاب نوادرات پہلی بار عوام کے سامنے پیش کیے گئے۔ اس نمائش کی سب سے بڑی کشش روم کے فلسفی بادشاہ مارکس اوریلیئس کا کانسی کا مجسمہ ہے، جو 65 سال بعد ترکیہ واپس آیا ہے۔یہ مجسمہ 1960 کی دہائی میں جنوبی ترکی کے قدیم شہر بوبون سے سمگل ہو کر امریکی ریاست اوہائیو کے کلیولینڈ میوزیم آف آرٹ پہنچا تھا۔ ترک وزارتِ ثقافت و سیاحت، عدالتوں اور سائنسی ماہرین کی مشترکہ کاوشوں کے نتیجے میں یہ قیمتی فن پارہ 2025 کے آغاز میں وطن واپس لایا گیا۔ترک وزیرِ ثقافت و سیاحت محمد نوری اییرسوئے نے اسے "ثقافتی سفارت کاری کی ایک تاریخی کامیابی” قرار دیا۔نمائش میں شامل دیگر اہم نوادرات میں کرہان تپے کا نیولیتھک پیالہ، حتّی سلطنت کے 3,500 سال پرانے مٹی کے تختی، انطالیہ سے 1,000 سال پرانی عطر کی بوتلیں، لیوڈیکییا سے سکیلا ہیڈ، گورڈین کا سفنکس، رومن دور کا کیبیلے مجسمہ اور عثمانی دور کا عُرخن غازی کا چاندی کا سکہ شامل ہیں۔یہ نمائش چھ ماہ تک صدارتی کمپلیکس میں جاری رہے گی، جو نہ صرف ترکیہ کے آثارِ قدیمہ کے شعبے میں عالمی مقام کو اجاگر کرے گی بلکہ ثقافتی مکالمے اور تحقیق کو بھی فروغ دے گی۔
