turky-urdu-logo

ترک بلدیاتی نتائج، کیس اسٹڈی

تحریر: انس اعوان، استنبول

سب سے پہلے ترکیہ کے حالیہ انتخابی نتائج پہ حیرت ہوئی۔ ترک صدر رجب طیب ایردوان اور انکی پارٹی کو اب بھی بطور ایک ماڈل سمجھا اور پرکھا جاتا ہے ۔ اسی لیے دونوں ایک کیس اسٹڈی کے طور پہ ہمارے لیے اہم ہیں ۔
اب آتے ہیں موجودہ صورتحال کی جانب، حالیہ انتخابات میں آق پارٹی اس وقت ملک کی دوسری سب سے بڑی سیاسی جماعت کے طور پہ سامنے آئی، جبکہ استنبول سمیت دیگر اہم شہروں کی مئیر شپ ان کے ہاتھ سے نکل چکی ہے ۔

ان نتائج کی ذمہ دار انکی اپنی کمزوری ہے وگرنہ اپوزیشن کی نہ تو کوئی خاطر خواہ کارکردگی ہے اور نہ ہی ایسا لائحۂ عمل جو حالات کو یکسر بدل کے رکھ دے گا۔ ہمارے ارد گرد ترک عوام کیا سوچتی ہے اسی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے بالترتیب اثر انداز ہونے والے عناصر درج ذیل ہیں ۔

معیشت
مہنگانی
مسلسل اقتدار
پارٹی کا مزاج
مئیر شپ کے لیے درست امیدواران کا پیش نہ کرنا
نوجوانون طبقہ کی ضروریات اور احساسات کو نظر انداز کرنا
ریٹائرڈ ملازمین کی ناراضگی
مذہبی طبقے سے دوری

معاشی صورتحال سے معاشرے کا ہر طبقہ متاثر ہے اسی لیے اپوزیشن کی کوئی خاص کارکردگی نہ ہونے کے باوجود بھی عوام اس امید میں تبدیلی چاہ رہی ہے کہ شاید اس سے معاشی حالات بہتر ہو سکیں ۔
مسلسل اقتدار میں رہنے سے بھی حکومتی جماعت کا ایک ایسا مزاج پیدا ہو گیا ہے جو بہتری کو وقع پزیر نہیں ہونے دے رہا۔جس کی سب سے بڑی وجہ کسی بھی طرح کا ڈائریکٹ تربیتی نظام کا موجود نہ ہونا ہے ، بلا واسطہ تو مختلف دائروں میں تربیت کا نظام موجود سے لیکن بحیثیت پارٹی ایسی کوئی صورت نہیں ہے ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایسا By-design کیا گیا ہے ۔

حکومتی جماعت کی فین بیس مڈل کلاس ، اپر مڈل کلاس ، ریٹائرڈ ملازمین اور مذہبی طبقہ ہے ۔ اگر جغرافیائی طور پہ دیکھا جائے تو حکومتی جماعت کا مضبوط قلعہ اندرون اناطولیہ ہے جہاں اکثریت ترک قوم پسند اور مذہبی لوگ ہیں۔
موجودہ معاشی پالیسیوں سے نوجوان اور ریٹائرڈ افرد شدید متاثر ہوئے ہیں اسی سبب ان دو طبقوں کی جانب سے ووٹ کی شرح حکومتی جماعت کے حق میں بقول اشخاص بہت کم ہوئی ہے ۔

مستقبل کا لائحہ عمل کیا ہو گا یہ تو حکمران جماعت سوچے گی مگر حالات بگڑے تو ہیں لیکن اب بھی دیر نہیں ہوئی ہے ۔ بہت کچھ بہتر کیا جا سکتا ہے ۔ حزب اختلاف کے اندرونی معاملات اس قدر سنگین ہیں کہ وہ خود رجب طیب ایردوان کی جماعت کے لیے راستہ چھوڑیں گے ۔

پاکستان کی اسلام پسندوں کے لیے اہم معاملہ یہ ہے استاد نجم الدین اربکان رح کی سیاسی پارٹی خوشگوار طور پہ تیسرے نمبر کی سیاسی جماعت کے طور پہ ابھری ہے ۔ اس سے پہلے انہوں نے حکمران جماعت سے اتحاد کے لیے ایک فارمولا پیش کیا تھا لیکن وہ قبول نہ ہوا اور اتحاد نہ ہو پایا ۔ مذہبی طبقے کی ایک تعداد جس کا تعلق رجب طیب ایردوان کی سیاسی جماعت سے تھا یا سعادت پارٹی سے تھا ان کا رجحان اربکان صاحب کے بیٹے کی جانب ہو رہا ہے ، لیکن یہ اس رفتار پہ ہو رہا ہے کہ ابھی اس پہ کچھ بھی کہا جائے تو قبل از وقت ہو گا مگر فی الحال مستقبل میں اسلام پسندوں کی ایک اور جماعت ترکیہ میں قدم جما رہی ہے ۔

آخری اور اہم بات سابقہ صدارتی انتخابات میں ترک صدر رجب طیب ایردوان کی جیت اور موجودہ بلدیاتی انتخابات میں انکی جماعت کی کارکردگی صاف صاف بتا رہی ہے کہ وہ اپنی سیاسی جماعت سے اب بھی بطور شخصیت زیادہ مضبوط ہیں ۔

Read Previous

ترک وزیر خارجہ کی اپنے 4 ممالک کے ہم منصبوں سے ملاقات،دوطرفہ، علاقائی امور پر تبادلہ خیال

Read Next

شب قدر

Leave a Reply