turky-urdu-logo

غزہ میں شہریوں کے خلاف کیے جانے والے جرائم ناقابل قبول ہیں،ترک وزیر خارجہ کا یورپی ہم منصبوں سے غزہ تنازع پر تبادلہ خیال

ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان غزہ کی پٹی میں انسانی المیے کا حل تلاش کرنے کے لیے سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں کیونکہ اسرائیل کی جانب سے ناکہ بندی شدہ انکلیو پر مسلسل حملے جاری ہیں۔

ترک سفارتی ذرائع کے مطابق وزیر خارجہ فیدان  نے اپنے ڈچ ہم منصب ہانکے بروئنز سلاٹ اور چیک وزیر خارجہ جان لیپاوسکی کے ساتھ الگ الگ فون کال کی تاکہ خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

فیدان نے سلاٹ کو بتایا کہ جلد از جلد مکمل جنگ بندی کا اعلان کیا جانا چاہیے اور غزہ کی پٹی میں فوری طور پر انسانی امداد پہنچانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ غزہ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو علاقائی بحران میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جانی چاہئیں۔

فون کال کے دوران اعلیٰ سفارت کاروں نے یوکرین کی صورت حال پر بھی تبادلہ خیال کیا کیونکہ روس کی اپنے پڑوسی کے خلاف جنگ جاری ہے۔ ذرائع نے مزید کہا کہ فیدان نے بحیرہ اسود کے اناج کے معاہدے کو جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔

دریں اثنا، فیدان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی طرف سے غزہ میں شہریوں کے خلاف کیے جانے والے جرائم ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے غزہ میں مکمل جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی کی فوری ضرورت پر بھی زور دیا۔

اسرائیل نے 7 اکتوبر کو فلسطینی گروپ حماس کے سرحد پار حملے کے بعد غزہ کی پٹی پر فضائی اور زمینی حملے شروع کر دیے ہیں۔

غزہ کی پٹی میں اسرائیلی بمباری میں 4104 بچوں اور 2641 خواتین سمیت کم از کم 10,022 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 1,600 ہے۔

بڑی تعداد میں ہلاکتوں اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے علاوہ، اسرائیلی محاصرے کی وجہ سے غزہ کے 2.3 ملین باشندوں کے لیے بنیادی سامان کی کمی ہے۔

Read Previous

اقوام متحدہ فلسطین و کشمیر تنازعات کے حل میں ناکام رہا ہے

Read Next

پاکستان یا ٹی ٹی پی، افغان حکومت کسی ایک کا انتخاب کرے: نگران وزیر اعظم پاکستان

Leave a Reply