صدر رجب طیب ایردوان کی دعوت پر ترکیہ کے دورے کے دوران وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف سے انقرہ میں منتخب ترک کاروباری گروپوں کے چیف ایگزیکٹوز نے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے ترک تاجروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے اور توانائی، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تعمیرات کے شعبوں میں اسٹریٹجک تعاون کی دعوت دی۔
ملاقاتوں کے دوران، وزیر اعظم نے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی سہولت کے لیے حکومت کے وژن کا خاکہ پیش کیا اور مشترکہ منصوبوں کی حوصلہ افزائی کی۔
یاد رہے کہ دونوں ممالک کی جانب سے گزشتہ سال اگست میں تجارتی سامان کے تاریخی معاہدے پر دستخط کے بعد، جو یکم مئی 2023 سے فعال ہوگیا، دونوں ممالک کے درمیان روایتی اور غیر روایتی مصنوعات کی تجارت کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ لہٰذا، ان مواقع سے موثر استفادہ کے لیے وزیراعظم نے ترک کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کریں، انہیں مکمل سہولت اور سازگار کاروباری ماحول کی یقین دہانی کرائی جائے۔
وزیراعظم پاکستان نے ترکیہ کی منتخب معروف کمپنیوں سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کیں جو پہلے ہی پاکستان میں سرمایہ کاری کرچکی ہیں، جن میں انادولو گروپ، آرسیلک، زورلو، البیرک، لیماک، ڈولسر، ترک کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن اور پاک یتریم شامل ہیں۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم نے ان کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول سے استفادہ کریں اور اپنے کام کو وسعت دیں۔
ترک کمپنیوں نے وزیراعظم پاکستان کو سرمایہ کاری کے حوالے سے اپنے موجودہ اور مستقبل کے منصوبوں سے آگاہ کیا جبکہ پاکستان میں اپنے آپریشنز میں سہولت فراہم کرنے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔
ترکیہ اقتصادی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس کے باوجود توانائی کے شعبوں میں تعاون اور اشتراک کے بہترین مواقع موجود ہیں۔ خاص طور پر ہائیڈرو اور سولر، ہاؤسنگ اور کنسٹرکشن، انفراسٹرکچر، سیاحت اور ٹرانسپورٹیشن میں۔
