امریکہ کے وزیر خارجہ انتونی بلنکن نے کانگریس کو بتایا کہ طالبان نے امریکہ کو دھمکی دی تھی کہ اگر معاہدے کے تحت نیٹو اور امریکی فوج افغانستان سے نہ نکلی تو وہ امریکی فوج پر حملے کریں گے اور اسے جانی نقصان پہنچائیں گے۔ جو بائیڈن انتظامیہ طالبان سے نئے مذاکرات کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھی کیونکہ طالبان نے کسی نئے معاہدے سے انکار کرتے ہوئے سابقہ امریکی حکومت کے ساتھ کئے گئے معاہدے پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا تھا۔
امریکی وزیر خارجہ نے کانگریس کو بتایا کہ افغانستان میں مزید قیام کا کوئی جواز نہیں تھا کیونکہ افغان فوج میں مزاحمت یا اپنی حفاظت کی صلاحیتوں سے عاری ہو چکی تھی۔ افغان فورسز پر مزید اجراجات کسی صورت ایک بہتر فیصلہ نہیں تھا۔ نئی امریکی حکومت کو ہر حال میں طالبان سے کئے گئے معاہدے پر عمل درآمد کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ جو بائیڈن انتظامیہ کو افغانستان سے انخلا کی صرف ڈیڈ لائن ورثے میں ملی تھی لیکن سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے انخلا سے متعلق کوئی منصوبہ بندی نہیں کی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان کو بے یارو مددگار چھوڑنے کے اور کوئی چارہ نہ تھا۔
امریکی کانگریس میں صدر جو بائیڈن کو افغانستان سے انخلا اور خطرے سے دوچار افغانوں کو بے یار و مددگار چھوڑنے پر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن کو کانگریس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے اجلاس میں افغانستان سے انخلا پر بریفنگ دینی شروع کی۔ ری پبلکنز کے دو سینیٹرز نے وزیر خارجہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جو بائیڈن انتظامیہ نے انخلا سے متعلق کوئی بہتر حکمت عملی تیار نہیں کی۔
پانچ گھنٹے تک سینیٹرز کے سوالات کے جواب میں انتونی بلنکن نے کہا کہ ری پبلکنز کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا نئی امریکی انتظامیہ کو اس پر عمل درآمد یقینی بنایا تھا۔
امریکی کانگریس نے افغانستان سے بغیر کسی منصوبہ بندی کے انخلا اور طالبان کی پیشقدمی اور فوری طور پر پورے افغانستان پر کنٹرول کے لئے تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔
