ہاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ طالبان کے ابھی تک کے بیانات حوصلہ افزاء ہیں، دنیا دیکھنا چاہتی ہے کہ طالبان اپنے بیانات پر عمل بھی کرتے ہیں یا نہیں، پنج شیر میں جنگ کی نوبت نہیں ہے وہاں طالبان کی بات چیت چل رہی ہے، جامع حکومت کا قیام افغانستان کے اپنے مفاد میں ہے، تمام معاملات پر پاکستان کی نظر ہے، ہم غور و فکر اور مشاورت کر رہے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا اس وقت دیکھ رہی ہے کہ آنے والی افغان حکومت کیا شکل اختیار کرتی ہے، اگر افغانستان میں جامع حکومت تشکیل پا جاتی ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ دنیا ان کے ساتھ رابطے کے لئے تیار ہو جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ افغان طالبان کی جانب سے ابھی تک جو بیانات آئے ہیں وہ حوصلہ افزاء ہیں لیکن دنیا دیکھنا چاہتی ہے کہ یہ صرف بیانات کی حد تک ہیں یا اس پر عمل بھی کیا جائے گا، اگر افغان طالبان اپنے اقدامات سے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ایک جامع حکومت پر یقین رکھتے ہیں اور بنیادی حقوق کا احترام کرتے ہیں، اپنی سرزمین کو کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے تو پھر کافی امکانات ہیں کہ دنیا افغانستان کی انسانی فلاح کے حوالے سے مدد کرنے کے لئے بھی تیار ہو جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال کے حوالے سے اس وقت ”انتظار اور جائزہ” کا مرحلہ ہے، دیکھتے ہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے، یہ افغان طالبان کے اپنے مفاد میں ہے کہ وہ ایک جامع حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائیں، پنج شیر کے معاملے پر بھی ان کی گفت و شنید ہو رہی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں یہ بہت اہم بات ہے کہ افغانستان کی صورتحال کے حوالے سے آئندہ چند دن بہت اہم ہیں، طالبان کس طرح کی حکومت بنا پاتے ہیں اور دنیا اس سے کیا تاثر لیتی ہے،
مجھے نہیں لگتا کہ دنیا بھی ایسی کسی عجلت میں ہے کہ طالبان کو الگ تھلگ کر دیا جائے، پاکستان سمجھتا ہے کہ قطع تعلقی نقصان دہ راستہ ہے جبکہ رابطہ رکھنا ہی وہ راستہ ہے جس سے بہتری کے امکانات نکل سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام معاملات پر پاکستان کی نظر ہے،
ہم غور و فکر اور مشاورت کر رہے ہیں، ہمیں خطے کے دیگر ممالک کے حوالے سے بھی جانچنا ہے کہ افغانستان کے دیگر ہمسایہ ممالک کا رویہ، سوچ اور مستقبل کے بارے میں ان کے کیا خیالات ہیں، اس کے بعد ہی پاکستان سوچ سمجھ کر اور مشاورت کے ساتھ فیصلہ کرے گا۔
