turky-urdu-logo

ترکی اور امریکہ میں کابل ہوائی اڈے سے متعلق بات چیت

پینٹگان کے چیف ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ، ترکی اور امریکہ کے درمیان امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد افغانستان کے دارالحکومت کابل میں واقع حامد کرزائی بین الاقوامی ہوائی اڈے کی سیکیورٹی سے متعلق ابتدائی گفتگو ہوئی۔

معمول کی صحافیوں کو بریفنگ کے دوران جان کربی سے ترک وزیر دفاع ہلوسی اکار کے حالیہ بیان سے متعلق پوچھا گیا، جس میں ترک وزیر دفاع نے کہا تھا کہ اگر ضروری شرائط کو پورا کرلیا جائے تو ترکی ایئرپورٹ کے لیے حفاظت (سیکیورٹی) فراہم کرسکتا ہے۔

اس سوال کے جواب میں ترجمان کا کہنا تھا کہ ہماری ترک قیادت سے اس منصوبے پر بات چیت ہورہی ہے۔

انکا کہنا تھا کہ یقینی طور پر یہ فیصلہ ترک صدر رجب طیب اردگان بے کرنا ہے اور ہم اسکی قدر کرتےہیں۔ لیکن یہ درست ہے کہ اس معاملے پر ہماری ابتدائی بات چیت ہوئی ہے۔ کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی سیکیورٹی نہ صرف امریکہ بلکہ دیگر ممالک کے لیے بھی اپنی سفارتی موجودگی یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔

یاد رہے کہ امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد ترکی نے کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی حفاظت اور چلانے کی پیش کش کی۔
ترک حکام نے یہ پیش کش مئی مین ہونیوالے نیٹو اجلاس کے دوران کی، جب امریکہ اور اسکے اتحادی افغانستان سے انخلا پر متفق ہوئے۔ اس موقع پر ترک وزیر دفاع نے کہا تھا کہ ہم چند شرائط پرافغانستان میں ٹھہرنے کے لیے تیار ہیں۔

ہماری شرائط بہت مختصر ہیں۔ اگر سیاسی، مالی اور رسد کی فراہمی سے متعلق مدد کو یقینی بنایا جائے تو ہم حامد کرزائی ایئر پورٹ پر رہنے کے لیے تیار ہیں۔

ترک وزیردفاع نے مزید کہا کہ ہمارے افغانستان کے ساتھ تاریخی تعلقات ہیں اور ہم اس ملک میں قیام امن کے لیے پرعزم ہیں۔ ہم افغانستان میں رہ کر اس وقت اسکی مدد کرسکتے ہین جب تک اسکے لوگ چاہیں۔

Read Previous

انڈونیشیا اور اٹلی میں بحری جہازوں کا معاہدے طے پا گیا

Read Next

ترک مسلح افواج کے لیے 118 اٹک ہیلی کاپٹرز تیار

Leave a Reply