اسرائیلی فوج نے آج علی الصبح حماس کے سینئر رہنما حسن وردیان کو گرفتار کر لیا۔ حسن وردیان فلسطین میں ہونے والے انتخابات میں حماس کے انتخابی امیدوار بھی ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق حسن وردیان کے ساتھ ان کے کئی کارکنوں کو بھی ان کے گھروں سے گرفتار کر لیا۔
واضح رہے کہ حسن وردیان اس سے پہلے اسرائیلی جیل میں 20 سال قید کی سزا کاٹ چکے ہیں۔ ان کا شمار حماس کے اہم رہنماؤں میں ہوتا ہے۔
اسرائیلی فوج نے ایک اور سابق فلسطینی قیدی نادر ابیات کو الفردوسی گاؤں اور عادل حجازی کو وسطی بیت الحم سے ان کے گھروں سے گرفتار کر لیا۔ عینی شاہدین نے میڈیا کو بتایا کہ اسرائیلی فورسز نے الفردوسی گاؤں میں چھاپے کے دوران ابو محمود اور ان کے اہل خانہ کو زدو کوب اور ان پر تشدد بھی کیا۔
دوسری طرف اسرائیلی پولیس نے مشرقی یروشلم میں فلسطینی تنظیم فتح کے کئی کارکنوں کو ان کے گھروں میں چھاپے مار کر گرفتار کر لیا۔ یہ تمام کارکن ایک انتخابی مہم میں جانے کی تیاری کر رہے تھے۔
فلسطینی تنظیم فتح نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مشرقی یروشلم کے ایمبسیڈر ہوٹل میں اسرائیلی پولیس نے چھاپہ مار کر کئی کارکن گرفتار کر لئے جو ایک انتخابی اجلاس میں شرکت کے لئے آئے ہوئے تھے۔
گرفتار ہونے والوں میں فتح کے ایک انتخابی امیدوار ابو رابی بھی شامل ہیں۔ فتح کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی پولیس نے انتخابی مہم کو سبوتاژ کرنے کے لئے تمام گرفتاریاں کی ہیں۔
ایمبسیڈر ہوٹل کی انتظامیہ نے میڈیا کو بتایا کہ اسرائیلی پولیس نے ہوٹل کے منیجر سمیع ابو داعی کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔
واضح رہے کہ فلسطین میں 22 مئی کو عام انتخابات ہونے ہیں جس کے لئے مختلف سیاستی تنظیمیں انتخابی مہم چلا رہی ہیں۔
