ترکی کی قومی سلامتی کونسل نے یونان سے کہا ہے کہ وہ اچھے ہمسائے ہونے کے تعلقات کو برقرار رکھے اور بین الاقوامی قوانین کا احترام کرے۔
ترک قومی سلامتی کونسل نے یونان سے کہا ہے کہ وہ ترکی کے خلاف اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد سے باز رہے۔
قومی سلامتی کونسل کا اجلاس صدر رجب طیب ایردوان کی صدارت میں ہوا جس میں کابینہ کے اہم وزرا سمیت اعلیٰ فوجی قیادت نے شرکت کی۔
صدارتی محل سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی سلامتی کے اہم اجلاس میں کئی امور پر غور کیا گیا۔ یونان میں ترک اقلیت کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور یونان کی طرف سے غیر قانونی تارکین وطن کو ترکی کی سرحد کی طرف دھکیلنے جیسے اقدامات پر بحث کی گئی۔
قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہا گیا ہے کہ مشرقی بحیرہ روم سے باہر کے ممالک اس تنازعے میں غیر جانبدار رہیں۔ مشرقی بحیرہ روم میں ترکی اور خطے کے دیگر ممالک کے باہمی حقوق اور مفادات پر ایک مشترکہ سوچ اور پالیسی کو اختیار کریں۔
قبرص کے معاملے پر ترک قومی سلامتی کونسل نے کہا ہے کہ اس تنازعے کا پائیدار حل صرف اور صرف دو الگ اور خود مختار یونانی اور ترک قبرص میں ہے۔ نصف صدی سے ترک قبرص کا معاملہ زیر التوا ہے اور صرف ایک جزیرے پر ترک قبرص کے قیام کی تجویز کو کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔
واضح رہے کہ مشرقی بحیرہ روم کے سمندری حدود کے معاملے میں یونان اپنے قانونی حق سے زائد حدود کا دعویدار ہے جبکہ ترکی کا موقف ہے کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت جو یونان کا حق ہے اسے دیا جائے گا۔
