ترکیہ میں 23 اپریل یومِ خودمختاری اور یومِ اطفال روایتی جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا، جس موقع پر ملک بھر میں مختلف سرکاری اور عوامی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ اس دن کی خاص بات یہ رہی کہ علامتی طور پر ریاستی ذمہ داریاں بچوں کے حوالے کی گئیں تاکہ نئی نسل کو قیادت اور جمہوری اقدار سے روشناس کرایا جا سکے۔
صدارتی محل میں منعقدہ مرکزی تقریب کے دوران صدر رجب طیب ایردوان نے قومی تعلیم کے وزیر اور مختلف تعلیمی اداروں سے آئے بچوں کا خیرمقدم کیا۔ تقریب میں شریک طلبہ نے علامتی طور پر مختلف ریاستی ذمہ داریاں سنبھالیں اور صحافیوں سے گفتگو بھی کی، جسے شرکاء نے نہایت دلچسپی سے دیکھا۔
تقریب کے دوران صدر نے بچوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ کا مستقبل نوجوان نسل کے ہاتھ میں ہے اور کامیابی کے لیے اعتماد، محنت اور نظم و ضبط بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ریاست بچوں کی تعلیم اور تربیت کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لا رہی ہے تاکہ وہ مستقبل میں ملک کی بہتر قیادت کر سکیں۔
دوسری جانب انقرہ میں پارلیمنٹ کی تاریخی عمارت اور انیت کبیر میں بھی خصوصی تقاریب منعقد ہوئیں۔ پارلیمنٹ اسپیکر نعمان کُرتُلموش نے اپنے خطاب میں کہا کہ قومی خودمختاری کی اصل بنیاد عوامی نمائندگی ہے اور ایک مضبوط ریاست کے لیے مضبوط پارلیمانی نظام ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں جمہوری اداروں کا کردار مزید اہم ہو گیا ہے۔
واضح رہے کہ 23 اپریل 1920 کو ترکیہ کی عظیم قومی اسمبلی کا قیام عمل میں آیا تھا، جس نے ملک کی آزادی اور ریاستی خودمختاری کی بنیاد رکھی۔ بعد ازاں اس تاریخی دن کو بچوں کے نام کر دیا گیا تاکہ آنے والی نسلوں کو ریاستی شعور اور ذمہ داری کا احساس دلایا جا سکے۔
ملک بھر میں اس موقع پر تعلیمی اداروں میں بھی خصوصی تقریبات، ثقافتی پروگرامز اور سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا، جن کا مقصد بچوں میں قومی یکجہتی اور جمہوری اقدار کو فروغ دینا تھا۔
