fbpx
ozIstanbul

پاکستان: آذربائیجان کی 30 ویں سالگرہ کی تقریب

پاکستان میں آذربائیجان ایمبیسی میں آذربائیجان کی 30 ویں سالگرہ کی تقریب منعقد کی گئی۔

پاکستان کے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے آذربائیجان کی 30 ویں سالگرہ کی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی ۔پاکستانی سینٹر طلحہ محمود ، ترکی کے سفیر احسان مصطفی، وسطی ایشیائی ممالک کے سفیر، یورپی سفارتکار، سرکاری افسران، بزنس مین کمیونیٹی اور میڈیا کے افراد نے استقبالیہ میں شرکت کی۔

اس موقع پر پاکستان کے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، آذربائیجان کے سفیر ، ترک سفیر مصطفی یرداکل اور دیگر مہمانوں کے ہمراہ سالگرہ کا کیک کاٹا ۔

سپیکر نے اپنی گفتگو میں کہا کہ پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان قریبی و تاریخی تعلقات ہیں ۔دونوں ممالک پرامن طور پر رہنے کے خواہشمند ہیں ۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو کشمیر اور کاراباخ کے مسائل کا سامنا ہے۔آذربائیجانی مقبوضہ علاقوں کی آزادی پر آذربائیجانی عوام اورحکومت مبارکباد کے مستحق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میرے حالیہ دورہ باکو کے دوران دونوں ممالک کی پارلیمنٹ کے درمیان معاہدہ پر دستخط ہوئے اور اس موقع پر ترکی اور آذربائیجان کی پارلیمان کے اسپیکر بھی موجود تھے۔ہم نے تینوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، عوامی سطح کے تعلقات کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔

آذربائیجان کے ساتھ تعلقات مزید مضبوطی کی جانب گامزن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم و بربریت کی شدید مذمت کرتا ہوں۔بھارتی قابض افواج کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں لگایا گیا مستقل لاک ڈاؤن ختم کیا جائے۔

کشمیر کے مسئلے کا حل صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ممکن ہے۔کشمیر پر بھرپور حمایت کے لیے آذربائیجان اور اس کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

آذربائیجان کے سفیر خضر فرہادوف کا کہنا تھا کہ آزربائیجان مشکل وقت میں پاکستانی سپورٹ کا شکر گزار ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آزربائیجان کی ریاست 1990 میں قائم ہوئی۔ابتدا میں جمہوریہ آزربائیجان کو بہت سے خطرات کا سامنا رہا۔ آرمینیا کی جارحیت اور اقتصادی مسائل سر فہرست تھے ۔ آج صدر الہا علی یوف کی قیادت میں آذربائیجان ایک مضبوط ملک ہے۔

آذربائیجان بین الاقوامی ٹرانزٹ میں اہم قردار ادا کر رہا ہے ۔ رواں برس آذربائیجان آرمینیا سے آزاد شدہ علاقوں کی واپسی کی پہلی سالگرہ بھی منا رہا ہے ۔

انکا مزید کہنا تھا کہ 2017 میں آذربائیجان ، ترکی اور پاکستان کے درمیان اعلی سطح رابطہ کے فورم کی بنیاد رکھی گئی۔پاکستان ، ترکی اور آذربائیجان کے اعلی سطح رابطے وزرائے خارجہ کی سطح پر شروع کیے گئے۔تینوں ممالک میں باہمی سطح پر قریبی تعلقات ہیں جو مزید مضبوط ہیں۔

ترک سفیر مصطفی یردکل کا کہنا تھا کہ انہیں اس تقریب میں شرکت کرکے بہت خوشی محسوس ہوئی۔

 

پچھلا پڑھیں

بنگادیش میں ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے، 6 افراد ہلاک درجنوں زخمی

اگلا پڑھیں

افغان حکومت کو ابھی تسلیم نہیں کیا تاہم امداد کے لیے تیار ہیں، روسی وزیر خارجہ

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے