Turkiya-Logo-top

14 سالہ عطا یالچینباش کی عالمی کامیابی، ڈبل باس سے دو گولڈ ایوارڈز تک کا سفر

صرف 14 سال کی عمر میں جب زیادہ تر بچے اپنی پڑھائی، کھیل اور روزمرہ کی سرگرمیوں میں مصروف ہوتے ہیں، عطا یالچینباش نے موسیقی کی دنیا میں ایسی کامیابی حاصل کی ہے جس نے انہیں بین الاقوامی سطح پر نمایاں کر دیا۔ ترکیہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان موسیقار نے جرمنی اور برطانیہ میں منعقد ہونے والے دو بین الاقوامی موسیقی مقابلوں میں گولڈ ایوارڈ حاصل کیے اور اپنی غیر معمولی صلاحیت کا لوہا منوایا۔

عطا یالچینباش کی کامیابی کی کہانی صرف دو ایوارڈز جیتنے تک محدود نہیں، بلکہ یہ اس بچے کی کہانی ہے جس نے ایک ایسے ساز کو اپنا ساتھی بنایا جو ابتدا میں اس کے لیے نہایت مشکل تھا۔ عطا نے ڈبل باس بجانا 11 برس کی عمر میں شروع کیا۔ ڈبل باس ایک بڑا تار والا ساز ہے جو عام طور پر آرکسٹرا میں سب سے گہری اور بھاری آواز پیدا کرتا ہے۔ اس کا حجم اتنا بڑا ہوتا ہے کہ کم عمر موسیقار کے لیے اسے سنبھالنا اور بجانا آسان نہیں ہوتا۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

عطا کے لیے بھی ابتدا میں یہ سفر مشکل تھا۔ ساز ان کے قد سے بڑا محسوس ہوتا تھا اور مسلسل مشق کے دوران ہاتھوں اور انگلیوں میں درد بھی ہوتا تھا۔ لیکن مشکل کے باوجود انہوں نے مشق جاری رکھی۔ وقت کے ساتھ ان کی انگلیاں ساز کے تاروں سے مانوس ہوتی گئیں، قد بڑھا اور وہ ڈبل باس کو زیادہ اعتماد کے ساتھ بجانے لگے۔ یہی مسلسل محنت آگے چل کر ان کی بین الاقوامی کامیابی کی بنیاد بنی۔

موسیقی سے عطا کی محبت دراصل اس سے بھی پہلے شروع ہو چکی تھی۔ انہیں بچپن ہی سے موسیقی میں دلچسپی تھی اور کنڈرگارٹن کے زمانے میں ہی موسیقی کی طرف ان کا رجحان واضح ہوگیا تھا۔ تاہم ڈبل باس سے ان کا باقاعدہ تعلق 11 سال کی عمر میں قائم ہوا، جب انہوں نے ٹریکیا یونیورسٹی اسٹیٹ کنزرویٹری میں اس ساز کی تعلیم حاصل کرنا شروع کی۔ یہاں ایسوسی ایٹ پروفیسر سیلا جان دوکمے چی نے ان کی تربیت اور رہنمائی کی۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

عطا کی اصل آزمائش اس وقت سامنے آئی جب انہیں بین الاقوامی مقابلوں میں اپنی صلاحیت ثابت کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے جرمنی کے میکس بروخ انٹرنیشنل میوزک مقابلے اور انگلینڈ کے لندن ینگ میوزیشن مقابلے میں شرکت کی۔ دونوں مقابلوں میں انہوں نے رومانیہ کے معروف ڈبل باس نواز اور موسیقار کانسٹنٹین دیمتریسکو کی تخلیق ’’ڈانس پیزان‘‘ پیش کی۔

ان مقابلوں کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ تھی کہ عطا کی کارکردگی کا جائزہ موسیقی کے شعبے سے وابستہ بین الاقوامی ماہرین نے لیا۔ لندن کے مقابلے کی جیوری میں رائل اکیڈمی آف میوزک سے وابستہ ماہرین اور لندن فلہارمونک آرکسٹرا کے ارکان بھی شامل تھے۔ یعنی عطا کو صرف اپنے ملک کے ماہرین کے سامنے نہیں بلکہ عالمی معیار کے موسیقاروں کے سامنے اپنی صلاحیت دکھانی تھی۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

جب ان کی پرفارمنس مکمل ہوئی تو محنت کا نتیجہ سامنے آیا۔ عطا یالچینباش نے دونوں مقابلوں میں گولڈ ایوارڈ حاصل کیا۔ دو مختلف ممالک میں ہونے والے بین الاقوامی مقابلوں میں کامیابی نے ان کے نام کو کم عمری ہی میں عالمی موسیقی کے منظرنامے پر نمایاں کر دیا۔

عطا اپنے مستقبل کے بارے میں بھی بڑے خواب رکھتے ہیں۔ وہ معروف ڈبل باس نواز گیری کار کو اپنا آئیڈیل مانتے ہیں اور مستقبل میں کسی بڑے عالمی آرکسٹرا کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ ان کا مقصد صرف ایک کامیاب موسیقار بننا نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر ترکیہ کی نمائندگی کرنا بھی ہے۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

ان کے استاد کے مطابق عطا کی کامیابی کے پیچھے صرف قدرتی صلاحیت نہیں بلکہ مسلسل محنت، باقاعدہ مشق اور تربیت کا بھی بڑا کردار ہے۔ ٹریکیا یونیورسٹی اسٹیٹ کنزرویٹری میں مختلف ممالک اور علاقوں سے آنے والے طلبہ موسیقی کی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور کئی طلبہ قومی و بین الاقوامی مقابلوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

عطا کی والدہ ایپیک یالچینباش بھی اپنے بیٹے کے موسیقی کے سفر میں اس کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ ان کے مطابق عطا کو بچپن ہی سے موسیقی میں خاص دلچسپی تھی اور اب وہ اپنے استاد کی رہنمائی میں مستقبل کے مزید بین الاقوامی مقابلوں اور پرفارمنسز کی تیاری کر رہے ہیں۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

14 سالہ عطا یالچینباش کی کہانی اس بات کی خوبصورت مثال ہے کہ کسی بڑے خواب کی راہ میں مشکلات آ سکتی ہیں، لیکن مسلسل کوشش انسان کو ان مشکلات سے آگے لے جاتی ہے۔ جس ڈبل باس کو انہوں نے ابتدا میں اپنے قد سے بھی بڑا اور مشکل محسوس کیا، آج وہی ساز ان کی شناخت بن چکا ہے۔ جرمنی اور برطانیہ سے حاصل کیے گئے دو گولڈ ایوارڈز شاید ان کے سفر کا اختتام نہیں بلکہ ایک ایسے موسیقی کے سفر کی ابتدا ہیں جو مستقبل میں انہیں دنیا کے بڑے اسٹیجز تک لے جا سکتا ہے۔

Read Previous

ٹیکا کے ترقیاتی سفیر پروگرام کے طلبہ کی ترک سفیر سے ملاقات

Leave a Reply