تحریر: حماد یونس
آج اسی فلسطین کے گرد عالمی سیاست کی نبض رواں ہے، جو تینوں ابراہیمی مذاہب میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
فلسطین میں مسلمانوں کا قبلہِ اول ہے، جبکہ سفرِ معراج میں بیت المقدس کی مرکزی حیثیت ہے ، سورۃ بنی اسرائیل میں اسی خطے یعنی مسجدِ اقصیٰ کا تذکرہ ہے ۔ پھر عہد خلافت میں خود حضرت عمر فاروقؓ فلسطین فتح کرنے تشریف لائے۔
عیسائیت میں فلسطین اس لیے مقدس ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش فلسطینی خطے بیت اللحم میں ہوئی، جبکہ ان کی پرورش ایک اور فلسطینی قصبے الناصرہ (Nazareth) میں ہوئی تھی۔
جبکہ عیسائیت ہی کے عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰ کو فلسطین ہی کی ایک "گولگوتھا” نامی پہاڑی پر مصلوب کیا گیا تھا۔
یہود کے لیے فلسطین کی حیثیت اس لیے مسلم ہے کہ صحرائے سینا سے نکل کر سب سے پہلے بنی اسرائیل نے فلسطین کا ہی ایک شہر اریحا فتح کیا تھا، جسے آج جیریکو کہا جاتا ہے ، پھر حضرت داؤد و سلیمان علیھما السلام کی یہاں حکومت رہی اور ہیکل سلیمانی تعمیر کیا گیا۔
تاریخِ فلسطین اسی قدر قدیم ہے جس قدر معلوم تاریخ جا سکتی ہے، ہزارہا سال تک یہاں دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں کی حکومت رہی، جن میں قدیم مصری، کنعانی، یونانی، رومی، عرب اور عثمانی سلطنت بھی شامل ہے، جبکہ 3 مختلف ادوار میں چند دہائیوں کے لیے بنی اسرائیل کی حکومت بھی اس خطے پر رہی ہے ۔
فلسطین کی معلوم تاریخ کو ادوار میں تقسیم کیا جائے تو بنی اسرائیل سے پہلے عمالقہ اور کنعانیوں کی یہاں حکومت تھی، جو نسلاً عرب ہی تھے، جن سے بنی اسرائیل نے اسے فتح کیا، مگر مکمل فلسطینی ریاست قائم نہیں کی گئی تھی۔
اس فتح کردہ خطے کو 12 قبائل میں تقسیم کیا گیا تھا، جسے ایک عظیم فلسطینی ریاست میں طالوت، حضرت داؤدؑ اور حضرت سلیمانؑ نے یکجا کیا۔ حضرت سلیمانؑ نے ہی یہاں ہیکلِ سلیمانی تعمیر کروایا تھا۔ یہی بنی اسرائیل کی تاریخ کا سب سے سنہری دور تھا۔ مگر حضرت سلیمان علیہ السّلام کی وفات کے بعد اسرائیلی ریاست دو حصوں میں بٹ گئی۔ اسرائیلیہ اور یہودیہ
اسرائیلیہ میں بنی اسرائیل کے 10 قبائل کی حکومت تھی، جبکہ یہودیہ میں بقیہ دو قبائل کی۔
اسرائیلیہ کو ہی سامریہ بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ اس کا مرکزی مقام سامریہ تھا۔
اسرائیلیہ کو تو اشوریوں نے آٹھویں صدی قبل از مسیح میں فتح کر لیا اور، دس قبائل دنیا بھر میں بکھر گئے۔
جبکہ بخت نصر دوم نے یہودیہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ، ہیکل سلیمانی زمیں بوس کیا گیا اور اسرائیلی شہری قیدی بنا لیے گئے۔
بعد ازاں سائرس نے بنی اسرائیل کو آزادی دلائی، فلسطین کو آزاد کیا اور ہیکل سلیمانی دوسری بار تعمیر کروایا۔ (بیشتر مورخین و مفسرین نے سائرس کو ہی ذوالقرنین قرار دیا ہے، مگر ہمارے نزدیک دارا اول اس کی زیادہ اہلیت رکھتے ہیں، جبکہ مولانا ابوالکلام آزاد بھی اس سلسلے میں ہمارے ہمنوا ہیں۔ )
تیسری صدی عیسوی میں اسکندرِ اعظم نے فلسطین کو فتح کیا، کیونکہ اسے مصر کی فتح کے لیے ایک راہداری تصور کیا جاتا تھا۔
رومیوں کے عہد میں فلسطین بھی ایک مغلوب ریاست بن چکا تھا، بنی اسرائیل نے بغاوت کی تو رومی جرنیل ٹائٹس نے 70 عیسوی میں پورے فلسطین کو آگ اور خون میں نہلا دیا ، ہیکلِ سلیمانی کو دوسری بار تباہ کر دیا گیا، اسی کی ایک مغربی دیوار کے سامنے کھڑے ہو کر یہود ساڑھے 19 صدیوں سے رو رہے ہیں، جسے دیوار گریہ کہا جاتا ہے۔
رومیوں نے 70 عیسوی سے 638 عیسوی تک فلسطین پر قبضہ جاری رکھا، یہود یہاں رومیوں کے غلام تھے، یہاں تک کہ 638 عیسوی میں مسلمانوں نے اسے فتح کیا اور یہودیوں کو سکھ کا سانس لینے کا موقع ملا۔
آئندہ قسط میں ہم تذکرہ کریں گے خلافتِ راشدہ اور اس کے بعد اسلامی عہد کے فلسطین کا۔
ان شاءاللہ
