زیرو ویسٹ فاؤنڈیشن نے استنبول میں قومی اور بین الاقوامی شراکت داروں کا اہم اجلاس منعقد کیا، جس میں اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی فریم ورک کنونشن کے تحت ہونے والی 31ویں کانفرنس آف پارٹیز (COP31) کے لیے حکمتِ عملی پر غور کیا گیا۔ یہ عالمی کانفرنس رواں سال ترکیہ اور آسٹریلیا مشترکہ طور پر ترکیہ میں منعقد کریں گے۔
فاؤنڈیشن کے جاری بیان کے مطابق 6 سے 8 فروری تک جاری رہنے والے تین روزہ ’’زیرو ویسٹ ریٹریٹ‘‘ میں زیرو ویسٹ فاؤنڈیشن کے اعلیٰ حکام، اقوامِ متحدہ کے ہائی لیول ایڈوائزری بورڈ برائے زیرو ویسٹ کے اراکین اور COP31 کے ہائی لیول کلائمیٹ چیمپئن عمل سے وابستہ اہم نمائندگان نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران COP31 کے عمل میں زیرو ویسٹ ماڈل کو ایک عملی، قابلِ پیمائش اور مؤثر حکمتِ عملی کے طور پر شامل کرنے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مشاورت میں پالیسی ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ عملی سطح پر نفاذ کے طریقہ کار پر بھی غور کیا گیا۔
یہ سرگرمیاں خاتونِ اول امینہ اردوان کے وژن اور سرپرستی میں انجام دی جا رہی ہیں، جو زیرو ویسٹ موومنٹ کی بانی، زیرو ویسٹ فاؤنڈیشن کی اعزازی صدر اور اقوامِ متحدہ کے ہائی لیول ایڈوائزری بورڈ برائے زیرو ویسٹ کی سربراہ بھی ہیں۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ موسمیاتی سفارت کاری کو ایسے عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے جو طویل المدتی مثبت اثرات مرتب کریں۔
شرکاء نے گزشتہ COP کانفرنسوں کے تجربات کا جائزہ لیا، بہترین عملی مثالوں کا مطالعہ کیا اور ان شعبوں کا تعین کیا جہاں زیرو ویسٹ پالیسیز موسمیاتی اقدامات سے منسلک ہو سکتی ہیں۔ ان شعبوں میں وسائل کا مؤثر استعمال، سرکلر اکانومی، پائیدار استعمال کے رجحانات اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی شامل ہیں۔
اجلاس میں اس امر پر بھی غور کیا گیا کہ COP31 کے دوران زیرو ویسٹ اقدامات کو کس طرح قابلِ مشاہدہ اور قابلِ تصدیق عملی سرگرمیوں کی صورت میں نافذ کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اجلاس COP31 کے ہائی لیول کلائمیٹ چیمپئن کے کردار کو مزید مضبوط بنانے میں اہم پیش رفت ثابت ہوگا، کیونکہ اس کردار کا دائرہ کار کانفرنس سے قبل کی تیاریوں، کانفرنس کے انعقاد اور بعد ازاں عملدرآمد و نگرانی تک پھیلا ہوا ہے۔
اس موقع پر زیرو ویسٹ فاؤنڈیشن نے 2026 کے لیے اپنی حکمتِ عملی اور سالانہ منصوبہ بندی کو بھی COP31 کے اہداف کے ساتھ ہم آہنگ کرنے پر غور کیا۔ بند کمرہ اجلاسوں میں ترجیحی منصوبوں، انتظامی ڈھانچے اور ذمہ داریوں کے تعین کے ساتھ ساتھ عملدرآمد کے واضح شیڈول پر بھی بات چیت کی گئی تاکہ زیرو ویسٹ اقدامات کے مؤثر اور دیرپا نتائج حاصل کیے جا سکیں۔
فاؤنڈیشن کے مطابق اس اجلاس کے دوران ہونے والی مشاورت نے ایک واضح اور قابلِ عمل روڈ میپ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے، جو ترکیہ کے اس مقصد کو تقویت دے گا کہ وہ موسمیاتی سفارت کاری اور عملی اقدامات کو یکجا کرنے کا مؤثر عالمی ماڈل پیش کرے۔
زیرو ویسٹ موومنٹ، جسے دنیا کے 193 ممالک میں اپنایا جا چکا ہے، عالمی ماحولیاتی اور موسمیاتی حکمرانی میں ایک اہم حوالہ بنتی جا رہی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ COP31 کے دوران یہ ماڈل نمایاں عملی پالیسی ٹول کے طور پر سامنے آئے گا۔
