6 فروری کے تباہ کن زلزلوں کے بعد جنوبی ترکیہ کے 11 صوبے شدید متاثر ہوئے، جہاں خواتین اور جمہوریت فاؤنڈیشن (KADEM) نے ہنگامی امداد سے لے کر طویل مدتی بحالی تک خواتین کو سہارا فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
کہرامان مراش، جو زلزلے کا مرکز تھا، وہاں KADEM نے فوری طور پر امدادی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ KADEM کی مقامی نمائندہ عائشہ تاشکیران کے مطابق زلزلے کے بعد ابتدائی دن انتہائی تکلیف دہ تھے، جہاں ہر طرف تباہی، ملبے تلے دبے افراد کی آوازیں اور اپنے پیاروں کے منتظر خاندان دکھائی دیتے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ متاثرہ خواتین کو رہائش، تحفظ، صفائی، بچوں کی ضروریات اور نفسیاتی مسائل کا سامنا تھا۔ بہت سی خواتین نے اپنے ذاتی دکھ کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے خاندان کی دیکھ بھال جاری رکھی، جس کے باعث انہیں نفسیاتی مدد کی شدید ضرورت تھی۔
KADEM کی جانب سے فوری طور پر نفسیاتی امداد، حفظانِ صحت کے سامان، کپڑوں، خیموں اور دیگر ضروری اشیا کی فراہمی شروع کی گئی۔ رمضان المبارک کے دوران خواتین کی درخواست پر افطار اجتماعات اور قرآنی محافل کا بھی اہتمام کیا گیا تاکہ متاثرین کی ذہنی بحالی میں مدد مل سکے۔
KADEM کی ڈائریکٹر جنرل امینہ یوروک اوغلاری کورک کے مطابق ادارے نے امدادی سرگرمیوں کو صرف ہنگامی حالات تک محدود نہیں رکھا بلکہ خواتین کے لیے طویل مدتی سماجی اور معاشی بحالی کے منصوبے بھی شروع کیے۔ اس ضمن میں نفسیاتی معاونت، پیشہ ورانہ تربیت اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے اقدامات کیے گئے۔
ادارے نے سرکاری اداروں کے ساتھ مل کر مستقل رہائش اور تعمیرِ نو سے متعلق آگاہی سیشنز بھی منعقد کیے تاکہ متاثرہ خواتین مستقبل کی بہتر منصوبہ بندی کر سکیں۔
زلزلہ متاثرہ خاتون اے کے کے مطابق KADEM کی معاونت نے ان کی زندگی بدل دی اور انہیں ذہنی دباؤ سے نکلنے میں مدد فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ مشاورتی نشستوں اور مثبت سرگرمیوں نے انہیں مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ دیا۔
KADEM کی جانب سے قائم کیے گئے خواتین معاونتی مراکز اب بھی متاثرہ علاقوں میں خواتین کو نفسیاتی، سماجی اور معاشی طور پر مستحکم بنانے کے لیے اپنی خدمات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
