اسلام آباد میں جاری اہم سفارتی سرگرمیوں کے دوران ایران کے وفد کی جانب سے خود کو "میناب 168” کا نام دینے کی وجہ سامنے آ گئی ہے، جو ایک افسوسناک واقعے کی یاد اور امن کی خواہش کی علامت قرار دی جا رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایرانی وفد اس نام کے ذریعے جنگ کے ابتدائی دن میں ہونے والے ایک بڑے حملے کی یاد کو اجاگر کرنا چاہتا ہے۔ جنگ کے پہلے ہی روز ایران کے شہر میناب میں ایک پرائمری اسکول کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں 168 طالبات اور اساتذہ جاں بحق ہو گئے تھے۔ اسی واقعے کی مناسبت سے وفد نے اپنے لیے "میناب 168” کا نام اختیار کیا۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ چالیس دنوں کے دوران جاری حملوں نے ایران میں عام شہریوں کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ متعدد علاقوں میں تعلیمی اداروں، طبی مراکز اور دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا۔ رپورٹس کے مطابق اب تک 800 سے زائد اسکولز، 30 سے زیادہ جامعات اور کئی طبی مراکز متاثر ہوئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس نام کا انتخاب صرف ایک یادگار علامت نہیں بلکہ ایک واضح پیغام بھی ہے۔ اس کے ذریعے ایران دنیا کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ جنگ کے باعث شہریوں کو ہونے والی تکلیف کو ختم کرنا اب اولین ترجیح ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ "میناب 168” کا نام اس بات کی نشاندہی بھی کرتا ہے کہ ایران موجودہ صورتحال کو سفارتی طریقے سے حل کرنے میں سنجیدہ ہے اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا چاہتا ہے۔
اسلام آباد میں موجود ایرانی وفد کی سرگرمیوں کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں وہ ممکنہ سفارتی حل کے لیے سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات میں حصہ لے رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس نام کے ذریعے ایران نہ صرف ماضی کے ایک المناک واقعے کو یاد رکھنا چاہتا ہے بلکہ مستقبل میں امن کے قیام کے لیے اپنی سنجیدہ کوششوں کا پیغام بھی دے رہا ہے۔
