turky-urdu-logo

ایئر فورس ٹو سے "SAM095” تک — وینس کے خفیہ سفر کی دلچسپ تفصیلات سامنے آگئیں

واشنگٹن سے اسلام آباد تک کا کل فضائی فاصلہ تقریباً 11 ہزار کلومیٹر سے زائد بنتا ہے، جسے طے کرنے میں عام طور پر 14 سے 18 گھنٹے لگ سکتے ہیں
امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس کا اسلام آباد تک کا سفر ایک عام سفارتی فلائٹ نہیں بلکہ انتہائی خفیہ اور سیکیورٹی سے بھرپور مشن تھا
جے ڈی وینس نے اپنی پرواز واشنگٹن کے جوائنٹ بیس اینڈریوز سے ایک خصوصی طیارے بوئنگ C-32A کے ذریعے شروع کی، جو عام طور پر “ایئر فورس ٹو” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ تاہم اس حساس مشن کے دوران ایک غیر معمولی فیصلہ کیا گیا۔

راستے میں اس طیارے نے اپنا کال سائن تبدیل کر کے “ایئر فورس ٹو” کے بجائے “SAM095” رکھ لیا۔ ماہرین کے مطابق یہ قدم سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اٹھایا گیا تاکہ فلائٹ کو آسانی سے ٹریک نہ کیا جا سکے اور نائب صدر کی نقل و حرکت کو خفیہ رکھا جا سکے۔
اس مشن کے دوران ایک دوسرا “شیڈو طیارہ” بھی ساتھ تھا، جو “SAM091” کے کال سائن کے تحت تقریباً اسی روٹ پر پرواز کر رہا تھا۔ اس حکمت عملی کا مقصد کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری متبادل فراہم کرنا اور اصل طیارے کی شناخت کو مزید مشکل بنانا تھا۔

طویل فضائی سفر کے دوران طیارے نے یورپ میں تکنیکی سٹاپ بھی کیا، جہاں ری فیولنگ اور سیکیورٹی کلیئرنس کے بعد دوبارہ پرواز شروع کی گئی فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق یہ طیارہ یورپ کے راستے وسطی ایشیا کی جانب بڑھا، اور ازبکستان کے شہر سمرقند کے قریب اس کی پوزیشن ریکارڈ کی گئی، جہاں سے یہ سیدھا پاکستان کی جانب گامزن رہا۔
پاک فضائیہ کے طیاروں نے اسے اسکورٹ کیا اور بالآخر یہ اسلام آباد کے نور خان ایئر بیس پر لینڈ کر گیا۔

یہ سفر صرف ایک فلائٹ نہیں بلکہ ایک انتہائی حساس سفارتی مشن کی عکاسی کرتا ہے جہاں ہر فیصلہ، یہاں تک کہ ایک کال سائن کی تبدیلی بھی، عالمی سیاست پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

Read Previous

پاکستان کی بڑی سفارتی کوشش، امریکہ اور ایران کے براہِ راست مذاکرات کی راہ ہموار

Read Next

وزیراعظم شہباز شریف سے ایرانی وفد کی اہم ملاقات،پاکستان کا سفارتی کردار نمایاں

Leave a Reply