ترکیہ سے نمائندہ خصوصی
شبانہ ایاز کی رپورٹ
غازی انتب، 21 مارچ 2026۔ کامل اوجاق اسپورٹس ہال کے باہر رات گہری ہو چلی تھی، مگر آگ کے شعلوں نے آسمان کو روشن کر رکھا تھا۔ سبز، سرخ اور پیلے روایتی لباس میں ملبوس مرد، خواتین اور بچے ان دہکتے شعلوں کے گرد جمع تھے۔ کوئی چھلانگ لگا رہا تھا، کوئی ہاتھ تھامے ناچ رہا تھا، کوئی پرانے جاننے والوں سے گلے مل رہا تھا۔ لکڑی کے بڑے ڈھیر جل رہے تھے، ڈھول کی تھاپ پر ہالے رقص کی لہریں اٹھ رہی تھیں، اور فضا نعروں اور ہنسی سے گونج رہی تھی۔
یہ نیوروز تھا — اور اس بار یہ محض ایک تہوار نہیں، ایک تاریخی لمحہ تھا۔

اس سال نیوروز ترک دنیا کے لیے ایک نئے باب کی شروعات لے کر آیا۔ ترک ریاستوں کی تنظیم کے رکن ممالک نے باضابطہ طور پر اسے مشترکہ عام تعطیل قرار دیا — ایک فیصلہ جو گزشتہ برس ہنگری میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں طے پایا تھا۔ آذربائیجان سے قازقستان، کرغزستان سے ازبکستان تک، 21 مارچ 2026 کو پہلی بار اس قدر ہم آہنگی اور اجتماعی جوش کے ساتھ یہ جشن منایا گیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ایک مشترکہ ثقافتی شناخت نے سرحدوں کو پھلانگ کر ایک تہوار ہونے اعلان کیا۔
نیوروز کا مرکزی دن 21 مارچ ہے — یعنی وہ دن جب موسم بہار کا باضابطہ آغاز ہوتا ہے اور دن رات برابر ہوتے ہیں۔ تاہم تقریبات 21 مارچ سے شروع ہو کر 23 مارچ تک جاری رہتی ہیں۔ بعض خطوں میں یہ جشن 20 مارچ کی شام سے ہی شروع ہو جاتا ہے جب آگ جلانے کی رسم ادا کی جاتی ہے، اور 23 مارچ کو اختتامی تقریبات کے ساتھ یہ سلسلہ اپنے انجام کو پہنچتا ہے۔ یوں تین سے چار دن پر محیط یہ تہوار پورے خطے (ترکیہ،ہنگری,آذربائیجان,
قازقستان,
کرغزستان,ازبکستان،ترکمانستان
اور شمالی قبرص)
میں خوشیوں، رسومات اور اجتماعی جشن کا رنگ بکھیرتا ہے۔
غازی انتب اس سال نوروز کی سرکاری تقریبات کا مرکز تھا۔ صدر رجب طیب ایردوآن نے ویڈیو پیغام میں خطے کے تمام ترک لوگوں کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ نیوروز کی آگ ترک قوم کی تاریخ سے جنم لینے والی امن اور سکون کی پکار ہے۔ انہوں نے خطے میں جاری جنگوں کے خاتمے کی امید کا اظہار بھی کیا اور کہا کہ یہ تہوار پڑوسی علاقوں کے ساتھ نئی شروعات کی علامت بنتا جا رہا ہے۔
اس بار ایک اور خاص اتفاق بھی تھا۔ نیوروز اور رمضان بیرامی یعنی عید الفطر ایک ہی وقت میں آئے۔ 20 مارچ سے 22 مارچ کے درمیان عید الفطر کی تعطیلات اور 21 مارچ کو نیوروز — دونوں یکجا۔ ترک اور اسلامی دنیا میں اس "دوہری خوشی” کا موقع شاذ ہی آتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اتفاق نے سماجی اتحاد اور آپسی محبت کے جذبے کو مزید گہرا کیا۔ گھروں میں عید کی مٹھائیاں اور چوکوں میں نیوروز کی آگ — یہ دونوں رنگ اس سال ایک ساتھ بکھرے۔

ہن قبائل سے ایرگنکون تک — نیوروز کی جڑیں کہاں ہیں؟*
نیوروز کو سمجھنا ہو تو تاریخ کے بہت پرانے اوراق پلٹنے پڑتے ہیں۔ چینی تاریخی مآخذ بتاتے ہیں کہ تیسری صدی قبل مسیح میں وسطی ایشیا کے ہن قبائل 21 مارچ کے آس پاس موسم بہار میں خاص تہوار مناتے تھے۔ یہ ہن وہی جنگجو خانہ بدوش قوم تھی جو گھڑ سواری اور بے مثال بہادری کے لیے پوری دنیا میں مشہور تھی، اور جس نے بعد میں یورپ کی سرحدوں تک اپنا لوہا منوایا۔ ترک مورخین انہیں ترک نسل کے ابتدائی قبائل میں شمار کرتے ہیں، اور انہی کے موسم بہار کے جشن کو نیوروز کی قدیم ترین شکل سمجھا جاتا ہے۔
مگر ترک روایت میں نیوروز کی سب سے گہری پہچان ایرگنکون کی داستان سے جڑی ہے — ایک ایسی کہانی جو صدیوں سے سینہ بہ سینہ چلی آ رہی ہے۔ کہتے ہیں کہ ترک قبائل ایک بڑی جنگ میں شکست کھانے کے بعد ایک تنگ پہاڑی وادی میں جا پھنسے، جس کے چاروں طرف لوہے کی ناقابلِ عبور چٹانیں تھیں۔ نکلنے کا کوئی راستہ نہ تھا، نہ باہر کی دنیا سے رابطہ۔
پوری قوم چار سو سال تک اس قید میں رہی — نسل در نسل، صدی در صدی۔
ایرگنکون ایک ایسی بند وادی تھی جو چاروں طرف سے اونچے لوہے کے پہاڑوں میں گھری ہوئی تھی۔ نہ کوئی درہ، نہ کوئی گھاٹی، نہ کوئی سرنگ — مکمل طور پر بند۔
تاہم اندر زندگی گزارنا ممکن تھا کیونکہ۔۔
پانی کے چشمے موجود تھے
چراگاہیں تھیں
جانور پلتے تھے
فصلیں اگتی تھیں۔۔
یہ ایک قدرتی قید خانہ تھا — جس میں داخل ہونا آسان تھا مگر نکلنا ناممکن۔ دشمن نے انہیں جان بوجھ کر وہاں دھکیلا تھا تاکہ یہ قوم ہمیشہ کے لیے دنیا سے کٹ جائے۔
پھر ایک لوہار نے ہمت دکھائی — اس نے آگ سلگائی، ہتھوڑا اٹھایا اور اس لوہے کی چٹان کو پگھلا کر راستہ بنا دیا۔ یہ 21 مارچ کا دن تھا، بہار کی آمد کا دن۔ پوری قوم آزاد ہوئی، نئی زندگی کا آغاز ہوا۔
اسی لیے آج بھی نیوروز پر آگ جلائی جاتی ہے، لوہے پر ہتھوڑا مارنے کی رسم ادا کی جاتی ہے، اور شعلوں پر چھلانگ لگائی جاتی ہے۔ یہ محض رسومات نہیں — یہ اس قوم کی اجتماعی یادداشت ہے جو اپنی آزادی کو ہر سال تازہ کرتی ہے۔ گوکترک دور سے لے کر آج تک، ایرگنکون کا یہ استعارہ ترک شعور میں اس طرح رچا بسا ہے کہ وقت بھی اسے دھندلا نہ کر سکا۔ اناطولیہ میں نیوروز کو "فطرت کی بیداری”، "سال کی واپسی” اور "سلطان نیوروز” بھی کہتے ہیں — ہر نام اسی قدیم جذبے کا اظہار ہے۔

ایجے یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر علیمکان عنایت کہتے ہیں کہ نیوروز ترک دنیا کی مشترکہ قدر ہے جسے مختلف خطوں میں مختلف ناموں سے جانا جاتا ہے — نیوروز، نوروز، میورس، صابان خولتوئے، اولوسون اولو گونو۔ نام بدلتے ہیں، روایات میں معمولی فرق ہوتا ہے، مگر روح ایک ہے۔ وہ کہتے ہیں: "ہمیں اسے عید الاضحیٰ اور عید الفطر کی طرح فعال اور رنگین بنانا چاہیے۔ یہ مختلف ممالک اور قوموں کو اکٹھا کرتا ہے، بھائی چارہ بڑھاتا ہے، علاقائی امن کو تقویت دیتا ہے۔”
نوروز تہوار کی روایات سات مراحل پر محیط ہیں۔ 20 مارچ کی شام سے ہی گھروں اور محلوں کی صفائی مکمل کر لی جاتی ہے اور رات کو آگ جلانے کی رسم شروع ہو جاتی ہے۔ 21 مارچ کو مرکزی تقریبات ہوتی ہیں — لوگ کوشش کرتے ہیں کہ کسی کے بارے میں برا نہ بولیں، پرانے جھگڑے نمٹائیں، رنجشیں دور کریں۔ مرنے والوں کی یاد میں دعائیں مانگی جاتی ہیں، بوڑھوں اور بیماروں کی عیادت کی جاتی ہے۔ 22 مارچ کو بچوں اور نوجوانوں کے لیے خاص تقریبات ہوتی ہیں اور 23 مارچ کو اختتامی جشن کے ساتھ یہ سلسلہ اپنے انجام کو پہنچتا ہے۔ آگ پر چھلانگ لگانا برائی دور کرنے اور طہارت کی علامت ہے۔ "نوروز دعوت” میں سات مختلف پکوان رکھے جاتے ہیں — کثرت اور خوشحالی کی امید کے ساتھ۔ گھروں میں "سیمینی” یعنی سبزہ اگانے کی روایت بھی زندہ رہتی ہے۔ نئے کپڑے، گھر کی مرمت، قبرستانوں کی زیارت، انڈوں کا ٹکراؤ جو زرخیزی کی علامت ہے، کھیل، گیت، رقص، شاعری — یہ سب مل کر ایک ایسا ماحول بناتے ہیں جو انسان کو اندر سے تازہ کر دیتا ہے۔

ترکیہ میں یہ تہوار صرف کسی ایک علاقے تک محدود نہیں۔ غازی انتب سے برصہ تک، ازمیر سے ارضروم تک، 21 مارچ کو ہر جگہ آگ جلتی ہے اور 23 مارچ تک رونقیں برقرار رہتی ہیں۔ برصہ جیسے شہر جہاں عثمانی جڑیں بہت گہری ہیں، وہاں بھی ان دنوں یکجہتی کا جذبہ خاص طور پر نمایاں ہوتا ہے۔ ترکیہ میں اس تہوار کو صرف ثقافتی ورثے کے طور پر نہیں، بلکہ ترک دنیا کے ساتھ مشترکہ تعلق کی زندہ دلیل کے طور پر منایا جاتا ہے ۔
اس سال کا نیوروز ایک لحاظ سے آئینہ تھا — اس بات کا کہ ترک دنیا کہاں کھڑی ہے اور کہاں جانا چاہتی ہے۔ ترک ریاستوں کی تنظیم کا وجود، مشترکہ تعطیل کا فیصلہ، اور ہر ملک میں ایک ہی دن ایک ہی جذبے سے جلنے والی آگ — یہ سب اتفاق نہیں، ایک شعوری کوشش ہے اپنی مشترکہ شناخت کو زندہ رکھنے کی۔
نیوروز یاد دلاتا ہے کہ فطرت ہر سال جنم لیتی ہے۔ درخت سوکھتے ہیں، پھر پھوٹتے ہیں۔ یہی سبق انسانوں کے لیے بھی ہے — کہ مشکلات کے بعد بھی نئی شروعات ممکن ہے۔ ایرگنکون کی کہانی محض ایک قدیم داستان نہیں، یہ ہر اس انسان کا استعارہ ہے جو مشکلوں میں گھرا ہو مگر ہمت نہ ہارے۔

ترکیہ، آذربائیجان، قازقستان اور ترک دنیا کے ہر کونے میں یہ آگ 21 مارچ سے 23 مارچ تک جلتی رہے گی، نسل در نسل۔ ایرگنکون کی وہ بھٹی جو چار سو سال پہلے لوہے کی چٹان پگھلانے کے لیے جلائی گئی تھی، آج بھی بجھی نہیں — بس اس کا روپ بدل گیا ہے۔ اب یہ آگ لوہا نہیں پگھلاتی، یہ دلوں کو جوڑتی ہے، سرحدیں مٹاتی ہے اور بھولی ہوئی یادوں کو تازہ کرتی ہے۔ یہ صرف لکڑی کی آگ نہیں — یہ ایک قوم کی روح کی وہ روشنی ہے جسے صدیاں بھی بجھا نہ سکیں۔
