استنبول کنوینشن سینٹر میں صدارتی ہیومن ریسورسز آفس کی جانب سے "نئی صدی کا ٹیلنٹ مرکز” کے مرکزی خیال کے ساتھ استنبول ہیومن ریسورسز فورم کا انعقاد کیا گیا ۔ صدر رجب طیب ایردوان نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ انہوں نے فورم میں شرکت کے لیے استنبول آنے والے مہمانوں کا خیر مقدم کیا۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں مختلف مذاہب کے لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے لیکن ترکیہ واحد ملک ہے جس نے ملک میں ایک ایسے ماحول کو پروان چڑھایا ہے جس میں عقیدے، نظریے اور نسل کی بنیاد پر کسی بھی شہری کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جاتا اور اس کی امیدوں کے راستے میں مصنوعی رکاوٹیں کھڑی نہیں کی جاتیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ "بحیثیت ترکیہ ہم اپنے پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میں مساوات، شفافیت، احتساب، جدت اور لیاقت جیسی انسانی اقدار کی ثقافت قائم کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ حالیہ 20 سالوں میں ہم نے جمہوریت، بنیادی حقوق ، آزادیوں اور انفراسٹرکچر کی سرمایہ کاریوں کے ذریعے ڈیجیٹلائزیشن کے شعبے میں قابل ذکر مسافت طے کی ہے۔ ہم نے ملک بھر میں ایک ایسا ماحول قائم کیا ہے جس میں دین، مکتبہ فکر اور نسل کی بنیادوں پر کسی شہری کے ساتھ امتیازی سلوک روا نہیں رکھا جاتا اور اس کی ترقی کے راستے میں مصنوعی رکاوٹیں کھڑی نہیں کی جاتیں۔
صدر ایردوان نے صدارتی نظام حکومت کے ذریعے، انسانی وسائل کے زیادہ بہتر انتظام کے حوالے سے، ملک کی اداراتی صلاحیت کو زیادہ تقویت دینے کا ذکر کیا اور کہا ہے کہ ہم نے ملک کو انسانی وسائل کا ایک ایسا جامع ماڈل عطا کیا ہے کہ جو ہمارے شہریوں کی صلاحیتوں کو زیادہ بہتر درجے پر پہنچا دے گا۔ ہم، "ترکیہ کی صدی” کے دائرہ کار میں اس ماڈل کے اثر و نفوذ میں اضافہ کرنے اور اسے ہر پہلو سے جامع بنانے کا ہدف رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ مجھے یقین ہے کہ انسانی وسائل کا ادارہ، دنیا کے مختلف ممالک سے شرکاء کو ایک پلیٹ فورم پر جمع ہونے کا امکان فراہم کر کے، ہماری ان کوششوں میں اہم کردار ادا کرے گا۔
