turky-urdu-logo

امریکہ–ایران مذاکرات: اسلام آباد میں ملٹی لیئر سیکیورٹی پلان نافذ، شہر کو بینرز ، جھنڈو اور روشنیوں سے سجا دیا گیا

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات کے پیش نظر سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ شہر میں ملکی و غیر ملکی مہمانوں اور بین الاقوامی مندوبین کی آمد کے باعث غیر معمولی حفاظتی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

حکام کے مطابق سیکیورٹی پلان کو ملٹی لیئر حکمتِ عملی کے تحت ترتیب دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔ اس حوالے سے وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت ایک خصوصی اجلاس میں سیکیورٹی اور انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں ہدایت دی گئی کہ بیرونِ ملک سے آنے والے مہمانوں کی سیکیورٹی اور میزبانی کے تمام اقدامات مکمل طور پر یقینی بنائے جائیں۔ محسن نقوی نے کہا کہ جنگ بندی کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا اسلام آباد میں انعقاد پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے۔

اجلاس میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، وفاقی سیکرٹری داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد، آئی جی اسلام آباد پولیس، کمشنر راولپنڈی، ڈی جی ایف آئی اے، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد، رینجرز، ایف سی اور وزارت خارجہ کے حکام نے شرکت کی، اور تمام شرکاء نے سیکیورٹی انتظامات کو مزید مؤثر بنانے پر اتفاق کیا۔

اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی میں ہزاروں سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جن میں پولیس، رینجرز، فرنٹیئر کانسٹیبلری (FC) اور دیگر ادارے شامل ہیں۔ حساس مقامات پر اسپیشل برانچ اور خفیہ اداروں کے اہلکار سادہ لباس میں تعینات کیے گئے ہیں جبکہ اہم عمارتوں اور روٹس پر اسنائپرز بھی موجود ہیں۔

ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے، جہاں داخلے کے لیے خصوصی اجازت نامہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اہم شاہراہوں اور داخلی راستوں پر سخت چیکنگ کا نظام نافذ ہے جبکہ مختلف علاقوں میں کنٹینرز لگا کر راستے محدود کر دیے گئے ہیں۔ واک تھرو گیٹس اور اسکینرز بھی نصب ہیں۔

شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر بھی سخت نگرانی جاری ہے۔ موٹر ویز، جی ٹی روڈ اور دیگر اہم شاہراہوں پر اضافی نفری تعینات ہے جبکہ مشکوک افراد اور گاڑیوں کی چیکنگ مزید سخت کر دی گئی ہے۔ سیف سٹی کیمروں کے ذریعے شہر بھر کی نگرانی جاری ہے اور مرکزی کنٹرول روم سے تمام سرگرمیوں کو مانیٹر کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب وزارت داخلہ نے ویزا سہولیات میں آسانی کا اعلان کیا ہے۔ غیر ملکی مہمانوں کے لیے ویزا آن ارائیول اور ای ویزا سہولت کو مزید بہتر بنایا گیا ہے تاکہ کسی کو دشواری کا سامنا نہ ہو۔ درجنوں ممالک سے سینکڑوں غیر ملکی مندوبین اور وفود کی آمد متوقع ہے جن میں سفارتکار، کاروباری شخصیات اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے شامل ہیں۔

ایئرپورٹ پر بھی خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں جہاں مہمانوں کے استقبال کے لیے الگ کاؤنٹرز قائم کیے گئے ہیں۔ امیگریشن کے عمل کو تیز کرنے کے لیے اضافی عملہ تعینات ہے جبکہ وی آئی پی مہمانوں کے لیے خصوصی پروٹوکول ترتیب دیا گیا ہے۔ ایئرپورٹ سے ہوٹلز اور ایونٹ وینیو تک محفوظ ٹرانسپورٹ کے لیے خصوصی روٹس مختص کیے گئے ہیں۔

ہوٹلز میں بھی سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے، جہاں پولیس اور رینجرز کی نفری تعینات ہے اور داخلی راستوں پر سخت چیکنگ جاری ہے۔

شہر کو خوبصورت بینرز، جھنڈیوں اور روشنیوں سے سجایا گیا ہے جبکہ استقبالیہ کیمپس اور ثقافتی پروگرامز کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔

ٹریفک پلان کے تحت شہریوں کو متبادل راستے فراہم کیے گئے ہیں جبکہ شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت دی گئی ہے۔ مخصوص اوقات میں بعض شاہراہیں بند بھی رہیں گی۔

ریسکیو 1122، فائر بریگیڈ اور میڈیکل ٹیمیں بھی الرٹ ہیں جبکہ بڑے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے بین الاقوامی ایونٹس کے لیے سخت سیکیورٹی معمول کی بات ہے، تاہم اس بار انتظامات کو غیر معمولی حد تک جامع بنایا گیا ہے تاکہ پاکستان کا مثبت تشخص عالمی سطح پر اجاگر کیا جا سکے۔

اسلام آباد میں ہونے والے اس اعلیٰ سطحی مذاکرات میں دنیا کی پانچ اہم شخصیات شریک ہیں جن کا کردار عالمی سیاست اور امن پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔

ایران کی جانب سے باقر قالیباف شریک ہیں جو پی ایچ ڈی ہولڈر اور سابق میئر تہران رہ چکے ہیں، جبکہ عباس عراقچی ایک تجربہ کار سفارتکار اور بین الاقوامی تعلقات کے ماہر ہیں۔

امریکا کی جانب سے جے ڈی وینس شریک ہیں جو سینیٹر اور نائب صدر رہ چکے ہیں اور داخلی و عالمی معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

سٹیو وٹیکوف ایک کامیاب بزنس مین اور امریکی خصوصی ایلچی ہیں جو مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

جیریڈ کشنر بھی اجلاس میں شریک ہیں جو سابق مشیر اور مشرقِ وسطیٰ امن مذاکرات میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔

مجموعی طور پر اسلام آباد اس وقت ایک مکمل ہائی سیکیورٹی زون میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں ہر پہلو پر باریک بینی سے نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ یہ اہم بین الاقوامی ایونٹ کامیابی سے مکمل ہو سکے۔

Read Previous

"ایران ہمیں دھوکہ دینے کی کوشش نہ کرے” امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی پاکستان روانگی سے قبل

Read Next

ترکیہ میں مقیم سربیا کے شہری نے اسلام قبول کر لیا، نام “محمد” رکھ لیا

Leave a Reply