مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس سربراہ میجر جنرل مجید خادمی ہلاک ہو گئے ہیں، جبکہ ایران کی جانب سے جوابی حملوں کا سلسلہ بھی بدستور جاری ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں تصدیق کی ہے کہ میجر جنرل مجید خادمی پیر کی صبح تہران کے قریب امریکی اور اسرائیلی حملوں میں مارے گئے۔ بیان میں کہا گیا کہ وہ پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ تھے اور انہیں دشمن کے حملے میں شہید کیا گیا۔ سرکاری نشریاتی ادارے نے بھی اس واقعے کی تصدیق کی ہے۔
واضح رہے کہ میجر جنرل مجید خادمی کو جون 2025 میں انٹیلی جنس سربراہ مقرر کیا گیا تھا، جب ان کے پیش رو جنرل محمد کاظمی اسرائیلی حملے میں مارے گئے تھے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے حملوں کا مقصد ایرانی قیادت کو نشانہ بنانا اور ایران کے بنیادی ڈھانچے کو کمزور کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے صنعتی اور پیٹروکیمیکل شعبوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے اور اگر ایران نے حملے جاری رکھے تو مزید کارروائیاں کی جائیں گی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق تہران کے نواحی علاقوں شہریار اور بہارستان میں ہونے والے فضائی حملوں میں کم از کم پچیس افراد ہلاک اور بیس زخمی ہوئے ہیں۔ حملوں کے نتیجے میں رہائشی عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں اور ملبے سے متعدد لاشیں نکالی گئیں۔ اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں دس سال سے کم عمر چھ بچے بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق تہران کی معروف تعلیمی درسگاہ شریف یونیورسٹی کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ اس سے قبل ایک اور یونیورسٹی کی طبی تحقیقاتی لیبارٹری بھی حملے میں تباہ ہو چکی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے ان حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
دوسری جانب ایران نے بھی اسرائیل پر میزائل حملے جاری رکھے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق تل ابیب اور حیفہ کے علاقوں میں ایرانی میزائلوں کے متعدد حملے ہوئے، جن میں کلسٹر بم استعمال کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ان حملوں میں کئی افراد زخمی ہوئے جبکہ کچھ مقامات پر گاڑیوں میں آگ لگ گئی اور ایک اسکول کی عمارت کو بھی نقصان پہنچا۔
اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر ایرانی حملے جاری رہے تو ایران کے مزید اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جائے گا۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے شہری علاقوں میں کلسٹر بموں کے استعمال کو ممکنہ جنگی جرم قرار دیا ہے۔علاقائی سطح پر اس تنازع کے اثرات خلیجی ممالک تک بھی پہنچ چکے ہیں۔ متحدہ عرب امارات، کویت اور سعودی عرب میں ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کئی مقامات پر ملبہ گرنے سے شہری زخمی ہوئے، جبکہ متعدد حملوں کو فضائی دفاعی نظام نے ناکام بنا دیا۔
ماہرین کے مطابق 28 فروری سے شروع ہونے والی اس جنگ کا فوری خاتمہ نظر نہیں آ رہا، اور خطے میں جاری کشیدگی عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور علاقائی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے۔
