امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ فضائی حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی کھلی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے۔ ایران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے علان کے بعد امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف بڑی مشترکہ فوجی کارروائی جاری ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ کے مطابق
"ہم امریکی عوام کے دفاع کے لیے ایران کی فوجی
صلاحیت اور جوہری پروگرام کو ختم کریں گے۔”

دوسری جانب ایران نے ان حملوں کو "جارحیت” قرار دیتے ہوئے سخت اور "کچل دینے والا” ردعمل ظاہر کیا ہے

ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی طرف سے بحرین،کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات میں قائم ہوائی اڈوں پر حملے جاری ہیں.
ایرانی جرنل سردار جباری نے ٹرمپ کو سخت پیغام کو دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے اب تک پرانے میزائل آزمائے، جلد ایسے ہتھیار سامنے آئیں گے جو دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھے
جبکہ اسرائیلی فضائیہ نے جنوبی لبنان کے علاقے اقلیم التفاح میں فضائی حملے کرنا کا دعوٰی کیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق تمام جنگی کارروائیاں حزب اللہ کےانفراسٹرکچر کے خلاف کی جا رہی ہیں، تاہم مقامی ذرائع کے مطابق شہری علاقوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے

امریکی محکمہ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈے ہائی الرٹ پر ہیں، جبکہ اضافی دفاعی نظام بھی متحرک کر دیے گئے ہیں۔ دوسری جانب ایران نے اعلان کیا ہے کہ اس کا ردعمل “مرحلہ وار” ہوگا اور اگر حملے جاری رہے تو جوابی کارروائی کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔

روس اور چین سمیت کئی عالمی طاقتوں نے صورتحال کو “انتہائی خطرناک موڑ” قرار دیتے ہوئے فوری سفارتی مداخلت پر زور دیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے اگلے چند دن نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے امن کا تعین کرنے میں اہم ہیں
