مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ہرمز آبنائے کی بندش نے عالمی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ کو اس معاملے میں غیر معمولی سفارتی تنہائی کا سامنا ہے، کیونکہ اس کے قریبی اتحادی بھی فوجی تعاون سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔
امریکہ نے نیٹو ممالک سے فوری مدد طلب کی تاکہ ہرمز آبنائے کو کھولا جا سکے، لیکن یورپی ممالک نے اسے اپنا جنگی مسئلہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے واضح کیا کہ ان کا ملک کسی وسیع جنگ میں شامل نہیں ہوگا، جبکہ جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے بھی امریکی مطالبے کو مسترد کر دیا۔
صورتحال اس حد تک سنگین ہو گئی ہے کہ امریکہ نے چین سے بھی تعاون کی درخواست کر دی ہے، حالانکہ چین ایران کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ قدم عالمی طاقتوں کے بدلتے ہوئے توازن کی نشاندہی کرتا ہے۔
آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل گزرتا ہے، کئی ہفتوں سے بند ہے جس کے باعث عالمی معیشت پر خطرات منڈلا رہے ہیں۔ یورپی یونین کی نمائندہ کایا کالاس نے سفارتی حل کی تجویز دی ہے تاکہ تیل کی ترسیل کو بحال رکھا جا سکے۔
یہ بحران اب ایک بڑے عالمی امتحان کی شکل اختیار کر چکا ہے، جہاں آنے والے دن فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔
