اقوام متحدہ نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ پٹی میں 20 لاکھ سے زائد افراد محصور ہیں جبکہ انسانی امداد کا ذخیرہ خطرناک حد تک کم ہو چکا ہے۔
اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجارک نے جمعرات کو جاری بیان میں کہا کہ جاری جنگ اور امدادی سامان کی شدید قلت نے بحران کو انتہائی سنگین بنا دیا ہے، خاص طور پر بچوں کی صورت حال نہایت تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ "آبادی کی ذہنی صحت کے مسائل روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں”۔
ترجمان کے مطابق 2 مارچ سے اسرائیل نے تمام امدادی سامان بشمول طبی امداد پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے جس کے بعد صورتحال انتہائی خطرناک حد تک بگڑ چکی ہے۔ رپورٹس کے مطابق غزہ کے 90 فیصد پانی کے ذرائع تنازعے کی وجہ سے تباہ ہو چکے ہیں۔
غزہ کی المناک صورت حال کے علاوہ ترجمان نے مغربی کنارے میں ہزاروں بے گھر ہونے والے شہریوں کا بھی ذکر کیا جو شمالی علاقوں میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے باعث اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکے۔
اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں میں 51 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔
