turky-urdu-logo

ایک ملک کے دو چہرے: پوپ اور ٹرمپ ایران جنگ پر متضاد مؤقف کے ساتھ آمنے سامنے

ایران جنگ کے معاملے پر امریکہ اور ویٹیکن کے درمیان غیر معمولی کشیدگی سامنے آ گئی ہے، جہاں پہلی بار ایک امریکی پوپ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر براہِ راست اور سخت تنقید کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق پوپ لیو چہاردہم نے ایران میں جاری جنگ اور امریکی مؤقف کو “انتہائی ناقابلِ قبول” قرار دیتے ہوئے کہا کہ طاقت کے ذریعے جنگی حکمت عملی انسانی اصولوں کے خلاف ہے۔ ان کے اس بیان نے واشنگٹن اور ویٹیکن کے تعلقات میں ایک نیا تناؤ پیدا کر دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو عام طور پر اندرونِ ملک سخت تنقید کا سامنا کرتے ہیں، اس بار ایک غیر معمولی صورتحال سے دوچار ہیں کیونکہ ان کے سب سے اہم ناقد امریکہ کے اندر نہیں بلکہ ویٹیکن میں موجود ہیں۔

یہ صورتحال اس لحاظ سے بھی تاریخی ہے کہ پہلی بار ایک امریکی پوپ اور امریکی صدر آمنے سامنے آ گئے ہیں۔ دونوں شخصیات ایک ہی نسل سے تعلق رکھتی ہیں، مگر عالمی سیاست، مذہب اور طاقت کے استعمال کے حوالے سے ان کے خیالات میں واضح اور گہرا فرق پایا جاتا ہے۔

پوپ لیو نے اپنے بیان میں کہا کہ خدا ان لوگوں کی دعا قبول نہیں کرتا جو جنگ چھیڑتے ہیں، اور انہوں نے اشارہ دیا کہ ایران میں جاری صورتحال کو فوری طور پر پرامن راستے کی طرف لے جانا چاہیے۔ انہوں نے ٹرمپ کے اس بیانیے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جس میں ممکنہ بڑے حملوں اور ایران کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی بات کی گئی تھی۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا، تاہم ٹرمپ نے اس سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ کا مؤقف طاقت اور فیصلہ کن کارروائی پر مبنی ہے، جبکہ ان کے حامی مذہبی رہنما اس جنگ کو “الٰہی مشن” قرار دیتے رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پوپ لیو کی یہ براہِ راست تنقید غیر معمولی ہے، کیونکہ عموماً ویٹیکن سیاسی معاملات پر عمومی انداز میں رائے دیتا ہے، مگر اس بار امریکی صدر کا نام لے کر تنقید کی گئی ہے، جسے ایک اہم سفارتی اور اخلاقی موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اختلاف نہ صرف امریکہ کی داخلی سیاست بلکہ عالمی سطح پر مذہب اور سیاست کے تعلق پر بھی گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔

Read Previous

چین کی جانب سے ایران کو فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے کی ممکنہ رپورٹ،چین اور امریکہ آمنے سامنے

Read Next

مولا بخش اور عالمی امن

Leave a Reply