turky-urdu-logo

ترکیہ میں رمضان کا استقبال: ایمان، اتحاد اور روحانی تجدید کا مہینہ

ترکیہ میں اسلامی مقدس مہینے رمضان کا پُرجوش اور روحانی استقبال کیا جا رہا ہے، جہاں ملک بھر میں لاکھوں مسلمان روحانی تجدید اور اجتماعی ہم آہنگی کے جذبے کے ساتھ 19 فروری کی سحر سے پہلے پہلے روزے کی تیاری کر رہے ہیں۔

رمضان کی تاریخ ہر سال تبدیل ہوتی ہے کیونکہ اسلام قمری کیلنڈر کی پیروی کرتا ہے جو چاند کے گردش کے نظام پر مبنی ہے، جس کے باعث یہ مقدس مہینہ ہر سال تقریباً 10 سے 11 دن پہلے آ جاتا ہے۔

جہاں بیشتر مسلم ممالک رمضان کے آغاز کا تعین چاند نظر آنے پر کرتے ہیں، وہیں ترکیہ فلکیاتی حساب پر مبنی پہلے سے طے شدہ کیلنڈر کی پیروی کرتا ہے، جس کے نتیجے میں پورے ملک میں ایک ہی دن سے روزوں کا آغاز ہوتا ہے۔

اس مقدس مہینے میں مسلمان سحر سے غروبِ آفتاب تک کھانے، پینے اور تمباکو نوشی سے پرہیز کرتے ہیں، جس کا مقصد کمزور اور ضرورت مند افراد کے ساتھ ہمدردی کو فروغ دینا ہے۔

دن کا آغاز "سحری” سے ہوتا ہے جو طلوعِ فجر سے پہلے کھایا جانے والا کھانا ہے، جبکہ اختتام "افطار” پر ہوتا ہے، جو غروبِ آفتاب کے وقت کیا جاتا ہے اور عموماً خاندان، دوستوں اور کمیونٹی کے ساتھ مل کر کیا جاتا ہے۔

ترکیہ کے سب سے بڑے شہر استنبول میں 19 فروری کو پہلا افطار شام 6 بج کر 49 منٹ پر ہوگا، جبکہ دارالحکومت انقرہ میں روزہ شام 6 بج کر 35 منٹ پر افطار کیا جائے گا۔

مجموعی طور پر رمضان 29 دنوں پر مشتمل ہوگا، جس دوران روزے کا اوسط دورانیہ 11 سے 12 گھنٹے کے درمیان رہے گا۔

رمضان کی آمد کے ساتھ ہی ملک بھر میں بامقصد تیاریوں کا ماحول گہرا ہو گیا ہے۔ تاریخی بازاروں، خصوصاً استنبول کے علاقے ایمنونو میں واقع مشہور مصری بازار میں غیر معمولی چہل پہل دیکھنے میں آ رہی ہے، جہاں لوگ کھجور، خشک میوہ جات اور دیگر روایتی اشیا کی خریداری کر رہے ہیں جو افطار اور سحری کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہیں۔

مہنگائی کے دباؤ اور اشیائے خورونوش کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر حکام نے مختلف اقدامات متعارف کرائے ہیں۔ تجارتی حکام نے چکن کی برآمدات عارضی طور پر روک دی ہیں تاکہ بلاجواز قیمتوں میں اضافے کو روکا جا سکے اور مقامی ضرورت پوری کی جا سکے، جبکہ منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف ملک بھر میں سخت نگرانی جاری ہے۔

گھریلو بجٹ کو سہارا دینے کے لیے بڑی ریٹیل تنظیموں نے استنبول اور انقرہ کی بڑی مارکیٹوں میں ضروری سرخ گوشت اور دودھ کی مصنوعات کی قیمتیں ماہِ رمضان کے دوران منجمد رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

روزمرہ روزے کے علاوہ، ترکیہ میں رمضان ایک مضبوط ثقافتی اور روحانی فضا کا بھی حامل ہوتا ہے۔ ملک بھر کی مساجد میں تراویح کی باجماعت نمازوں کے لیے خصوصی انتظامات اور صفائی کا اہتمام کیا گیا ہے، جبکہ بلدیاتی اداروں نے کم آمدنی والے افراد کی مدد اور اجتماعی یکجہتی کے فروغ کے لیے مفت افطار خیمے قائم کیے ہیں۔

اس سال یہ مقدس مہینہ ترکیہ کے تاریخی ورثے کے لیے بھی ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو رہا ہے۔ شمال مغربی شہر ادرنہ میں واقع عظیم الشان سلیمیہ مسجد چار سالہ بحالی کے بعد رمضان کے پہلے دن مکمل طور پر دوبارہ کھول دی جائے گی، جہاں اس کے میناروں سے ایک بار پھر راتوں کو قرآن کی تلاوت کی صدائیں بلند ہوں گی۔

جنوبی صوبے ہاتائے میں بھی عزم و حوصلے کی فضا نمایاں ہے، جہاں تاریخی حبیبِ نجار مسجد 2023

کے زلزلوں کے بعد پہلی بار دوبارہ مذہبی سرگرمیوں کے لیے کھولی جائے گی اور یہاں تراویح کی نماز ادا کی جائے گی۔

رمضان المبارک کا اختتام 19 مارچ کو آخری روزے کے ساتھ ہوگا، جس کے بعد 20 مارچ سے عیدالفطر کی خوشیاں منائی جائیں گی، جو خاندان اور کمیونٹی کے ساتھ مل کر ایک ماہ کے روزوں کے اختتام کا تہوار ہے۔

Read Previous

نمیبیا کے خلاف صاحبزادہ فرحان کی سنچری، ٹیم سلیکشن پر سوالات

Read Next

پاکستان اور ترکی میں تعلیمی تعاون کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال

Leave a Reply