turky-urdu-logo

ترکیہ نے ملک بھر میں ٹی بی کے خلاف کوششوں کو مزید تیز کر دیا

استنبول کا’ہادم کوی ڈاکٹر اسماعیل نیازی کرتلمس  اسپتال’ صدر رجب طیب ایردوان کی رہنمائی میں دوبارہ بنایا گیا ہے جو پھیپھڑوں کی بیماریوں، بالخصوص  تپ دق (ٹی بی) کے علاج پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔ مئی 2020 میں دوبارہ کھلنے کے بعد یہ اسپتال یدیکیولے چیسٹ ڈیزیز ٹریننگ اینڈ ریسرچ ہسپتال کے تحت کام کر رہا ہے۔

گزشتہ  ہفتے ٹی بی تعلیم اور آگاہی ہفتہ کے موقع پر،ٹی بی ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ  پروفیسر سیدت  آلتن،  نے تپ دق کے  عالمی  چیلنجز پر روشنی ڈالی۔ پروفیسر آلتن نے کہا کہ، تپ دق نے صدیوں سے لاکھوں جانیں لی ہیں اور یہ ابھی بھی عالمی صحت کا ایک سنگین مسئلہ ہے۔ انہوں نے ترکیہ کی ٹی بی کے خلاف کی گئی کامیاب کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ، ترکیہ نے اس بیماری کے علاج کے نئے طریقے اور ویکسینز کی تیاری میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

پروفیسر آلتن نے بتایا کہ، ترکیہ میں ہر سال تقریبا1 ہزار  نئے ٹی بی  کیسز رپورٹ ہوتے ہیں، جو عالمی اعداد و شمار کے مقابلے میں کم ہیں لیکن اب بھی ایک سنگین مسئلہ ہیں۔  ٹی بی کا آغاز اکثر خاموشی سے ہوتا ہے اور سردی سے مشابہ علامات پیدا کرتا ہے، اس لیے دو ہفتے سے زیادہ کھانسی یا خون آنا جیسے علامات ظاہر ہونے پر فوراطبی مدد لینی چاہیے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ، ٹی بی کا علاج ممکن ہے اور اس کا فوری علاج بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔  علاج کی مکمل اور درست پیروی کرنا ضروری ہے، تاکہ دوا کے خلاف مزاحمت پیدا نہ ہو، جو علاج کے لحاظ سے مزید پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے۔

پروفیسر آلتن نے ٹی بی کی منتقلی کے بارے میں بتایا کہ، یہ بیماری کھانسی، چھینک یا بات کرنے کے دوران متاثرہ شخص کے سانس کے قطروں کے ذریعے پھیلتی ہے۔ تاہم، مضبوط مدافعتی نظام والے افراد اس بیکٹیریا کو بغیر کسی علامت کے لے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے عوامی مقامات پر ماسک پہننے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ‘ماسک ہماری صحت کا سب سے طاقتور ہتھیار ہے’۔

Read Previous

سویلینز کا ملٹری ٹرائل کیس: کیا ایگزیکٹیو خود جج بن کر فیصلے کر سکتا ہے؟ سپریم کورٹ آف پاکستان

Read Next

یوم سقوط قرطبہ

Leave a Reply