بھارت کی جانب سے 6 اور 7 مئی کو پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر پر کیے گئے حملوں کے بعد ترکیہ نے ایک بار پھر "دو قومیں، ایک مستقبل” کے نعرے کو حقیقت کا روپ دے دیا۔
ترکیہ ان ممالک میں شامل ہے جس نے سب سے پہلے پاکستان پر بھارتی حملوں کی شدید الفاظ میں نہ صرف مذمت کی بلکہ پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
ترک صدر رجب طیب ایردوان نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور نہ صرف بھارتی جارحیت کی مذمت کی، بلکہ پاکستان کی خودمختاری کے حق میں واضح حمایت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ اس کڑے وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے اور ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
ترک وزارت خارجہ نے بھی ایک بیان میں بھارت کی جانب سے پاکستان پر حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار ہے۔
ترک عوام، سیاستدانوں اور پارلیمنٹ کے اراکین نے بھی پاکستان کے حقِ خود دفاع کو جائز قرار دیتے ہوئے بھارت کی ہندوتوا سوچ پر مبنی جارحیت کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے دنیا سے مطالبہ کیا کہ وہ جنوبی ایشیا میں امن کے قیام کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالے۔
ترکیہ کے عوام اور میڈیا میں بھی پاکستان کے لیے یکجہتی کا اظہار زور و شور سے جاری ہے، جو اس برادرانہ تعلق کو مزید مضبوط بناتا ہے۔
مشکل کی اس گھڑی میں ترکیہ نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔
