turky-urdu-logo

ترکیہ کا ایران کے لیے بڑا انسانی اقدام، 48 ٹن امداد روانہ ، ترکیہ کا انسانیت کے لیے اہم اقدام

ترکیہ نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایران کے لیے امداد روانہ کر دی ہے۔ ترک ہلالِ احمر کی جانب سے چار امدادی ٹرکوں پر مشتمل قافلہ ایران بھیجا جا رہا ہے، جس میں مجموعی طور پر 48 ٹن انسانی امداد شامل ہے۔

یہ امدادی سامان انقرہ میں قائم ترک ہلالِ احمر کے لاجسٹک مرکز میں تیار کیا گیا۔ اس میں خیمے اور پناہ گاہ کا سامان، صفائی کے کٹس اور زخمی افراد کے علاج کے لیے ضروری طبی اشیاء شامل ہیں، جو جاری حملوں اور تباہی سے متاثرہ شہریوں کی مدد کے لیے فراہم کی جا رہی ہیں۔

ترک ہلالِ احمر کی صدر فاطمہ مریچ یلماز نے کہا کہ ایران کی جانب سے امداد کی درخواست موصول ہوتے ہی ادارے نے فوری کارروائی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ چار ٹرکوں پر مشتمل یہ انسانی امداد جلد ایران روانہ کر دی گئی ہے تاکہ متاثرہ افراد تک بروقت مدد پہنچائی جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ امداد صرف ایک بار کی کارروائی نہیں بلکہ ایک مسلسل انسانی ہمدردی کی کوشش کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق جیسے جیسے ضرورت بڑھے گی، امدادی سرگرمیاں بھی جاری رکھی جائیں گی۔

فاطمہ مریچ یلماز نے بتایا کہ ایران میں بڑے پیمانے پر انسانی بحران کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جہاں لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں مکانات اور کاروباری عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ہنگامی خدمات سے متعلق اہم ڈھانچہ بھی متاثر ہوا ہے، جن میں سروس مراکز، ایمبولینسز اور امدادی ہیلی کاپٹر شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ترک ہلالِ احمر خطے کی دیگر امدادی تنظیموں، خصوصاً ایرانی ہلالِ احمر اور لبنانی ریڈ کراس کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ متاثرہ افراد تک امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

ترک ہلالِ احمر کی جانب سے خطے کے دیگر متاثرہ علاقوں میں بھی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، خاص طور پر غزہ اور فلسطین میں روزانہ ہزاروں افراد کو گرم کھانا فراہم کیا جا رہا ہے۔

یہ امدادی قافلہ انقرہ کے لاجسٹک مرکز سے ایک باقاعدہ تقریب کے بعد روانہ کیا گیا، جس میں بین الاقوامی ہلالِ احمر اور ریڈ کراس فیڈریشن کے نمائندے بھی شریک تھے۔

چاروں امدادی ٹرک ترکیہ اور ایران کی سرحد پر واقع گُربولاک بارڈر کے راستے ایران میں داخل ہوں گے، جہاں یہ انسانی امداد ایرانی ہلالِ احمر کے حوالے کی جائے گی تاکہ اسے متاثرہ علاقوں میں تقسیم کیا جا سکے۔

یہ اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مشکل حالات میں انسانی ہمدردی اور باہمی تعاون ہی متاثرہ لوگوں کے لیے امید کی سب سے بڑی کرن بنتا ہے۔

Read Previous

وزیراعظم شہباز شریف سے ترک آئینی عدالت کے سربراہ قادراوزکایا کی ملاقات، پاکستان–ترکیہ عدالتی تعاون میں اہم پیش رفت

Read Next

"ایران ہمیں دھوکہ دینے کی کوشش نہ کرے” امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی پاکستان روانگی سے قبل

Leave a Reply