خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان ایک اہم سفارتی مرکز کے طور پر سامنے آ رہا ہے، جہاں ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ آئندہ چند روز میں اہم مشاورتی اجلاس کے لیے اسلام آباد کا دورہ کریں گے۔
دفتر خارجہ کے مطابق یہ دورہ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی دعوت پر کیا جا رہا ہے، جس کے تحت سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان اور مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی 29 سے 30 مارچ 2026 کے دوران پاکستان میں موجود ہوں گے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس دوران وزرائے خارجہ خطے کی صورتحال، خصوصاً کشیدگی میں کمی (de-escalation) کی کوششوں پر تفصیلی مشاورت کریں گے، جبکہ وہ وزیراعظم پاکستان سے بھی ملاقات کریں گے۔ یہ دورہ پاکستان اور برادر ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کا اہم موقع فراہم کرے گا۔
دوسری جانب ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان نے بھی اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابتدا میں ترکیہ، پاکستان، مصر اور سعودی عرب کا اجلاس ترکیہ میں منعقد کرنے کا منصوبہ تھا، تاہم پاکستانی قیادت کی مصروفیات کے باعث اس اجلاس کو پاکستان منتقل کر دیا گیا۔ ان کے مطابق امکان ہے کہ یہ اہم ملاقات اسی ہفتے کے اختتام پر پاکستان میں ہو سکتی ہے۔
حاقان فیدان نے غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری اسرائیل پر دباؤ ڈالنے میں ناکام نظر آ رہی ہے، جبکہ اگر امریکہ ایران کے ساتھ مذاکرات یا کسی معاہدے میں پیش رفت کرتا ہے تو اسے اسرائیل پر سنجیدہ اثر و رسوخ استعمال کرنے کے لیے بھی تیار ہونا چاہیے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پاکستان نہ صرف خطے میں سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بنتا جا رہا ہے بلکہ اہم عالمی اور علاقائی تنازعات میں ایک ممکنہ ثالث (mediator) کے طور پر بھی ابھر رہا ہے۔
