واشنگٹن: ترکیہ کے وزیر خارجہ حاکان فیدان نے کہا ہے کہ ترکیہ غزہ کی تعمیرِ نو، انتظامی بحالی اور سیکیورٹی استحکام کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کو تیار ہے۔
انہوں نے یہ بات واشنگٹن میں ایک انٹرویو میں کہی۔ حاکان فیدان کا کہنا تھا کہ چاہے انسانی امداد ہو، غزہ کی انتظامیہ کا نظام ہو، بنیادی ڈھانچے اور بالائی ڈھانچے کی بحالی ہو یا بین الاقوامی استحکام فورس میں کردار ادا کرنا ہو، ترکیہ ہر شعبے میں مکمل تعاون کے لیے تیار ہے۔
یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت منعقدہ بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کے فوراً بعد سامنے آیا۔ اس اجلاس میں 45 سے زائد ممالک کے سربراہان اور نمائندوں نے شرکت کی اور غزہ کی تعمیر نو اور بین الاقوامی استحکام کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ اجلاس علامتی اہمیت کے ساتھ ساتھ عملی نتائج کا حامل بھی تھا، کیونکہ کئی ممالک نے مالی اور ممکنہ عسکری تعاون سمیت بین الاقوامی استحکام فورس کے لیے اپنی وابستگی کا اظہار کیا۔
حاکان فیدان نے زور دیا کہ غزہ کی تعمیر نو صرف عمارتوں کی مرمت تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ مقامی حکومتی ڈھانچے کی ازسرِنو تشکیل اور عوامی خدمات کی فراہمی کی صلاحیت میں اضافہ بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کا بڑا حصہ تباہ ہو چکا ہے اور مؤثر انتظامی نظام کی بحالی ناگزیر ہے۔
انہوں نے بتایا کہ غزہ کی انتظامیہ کے لیے قائم 15 رکنی ٹیکنوکریٹک کمیٹی کے ساتھ رابطے جاری ہیں، جس کی سربراہی فلسطینی ماہر علی شعث کر رہے ہیں۔ ترک صدر رجب طیب ایردوان نے حال ہی میں علی شعث سے حکمرانی اور تعمیر نو کے منصوبوں پر گفتگو بھی کی ہے۔
وزیر خارجہ کے مطابق ترکیہ فوری انسانی امداد کے علاوہ صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں استعداد کار بڑھانے میں بھی مدد فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر متعلقہ فریقین متفق ہوں تو ترکیہ بین الاقوامی استحکام فورس میں فوجی دستے بھی بھیجنے کے لیے تیار ہے اور پولیس فورس کی تربیت میں بھی تعاون کرے گا۔
حاکان فیدان نے بتایا کہ ایک ترک امدادی جہاز مصری بندرگاہ پہنچ چکا ہے جہاں سے سامان غزہ بھیجا جائے گا، جبکہ ابتدائی طور پر 20 ہزار رہائشی کنٹینرز بھی روانہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ طبی انخلا اور فیلڈ اسپتالوں کے ذریعے طبی سہولیات کی فراہمی بھی جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ دو سال کی انسانی مشکلات کے بعد جنگ بندی ممکن ہوئی، تاہم صورتحال اب بھی نازک ہے اور جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، اس لیے فوری اور مؤثر عالمی ردعمل کی ضرورت ہے۔
وزیر خارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ترکیہ خطے میں منصفانہ اور دیرپا امن کے قیام کے لیے دو ریاستی حل کی حمایت جاری رکھے گا اور استحکام و بحالی کی کوششوں میں ذمہ دارانہ کردار ادا کرتا رہے گا۔
