شام میں اسد حکومت کا تختہ الٹنے والے باغی گروپ ہئیت التحریر الشام اور سیرین نیشنل آرمی کو ترکیہ کی جانب سے عکسری تربیت کی پیشکش کی گئی ہے.
ترکیہ کے وزیر دفاع یاشار گولیر نے اتوار کے روز کہا کہ ان کا ملک شام کی اسلام پسندوں کی قیادت والی حکومت کو فوجی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے اگر وہ اس کی درخواست کرتے ہيں۔
گولیر نے مزيد کہا کہ نئی قیادت کو ‘ایک موقع‘ دیا جانا چاہیے اور یہ کہ ترکیہ ضرورت پڑنے پر ‘ضروری مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے‘۔ شام کی خانہ جنگی کے دوران سفارتی مشن کے بند ہونے کے ترکیہ نے 12 سال بعد ہفتے کے روز دمشق میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھول دیا۔ انقرہ کی حکومت شامی تنازعے میں ایک اہم کھلاڑی ہے۔
