ترکیہ اور اسلامی دنیا کی نمایاں طاقتوں نے اسرائیل کے مغربی کنارے میں اپنی اتھارٹی بڑھانے کے غیر قانونی فیصلے کی سخت مذمت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ ایسا اقدام خطے میں امن و استحکام کو شدید نقصان پہنچائے گا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب غزہ امن معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عملدرآمد کی کوششیں جاری ہیں۔
ترکیہ، مصر، اردن، انڈونیشیا، پاکستان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے یہ فیصلے اور اقدامات غیر قانونی ہیں، جن کا مقصد مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بالادستی مسلط کرنا، یہودی آبادکاری کو مزید مضبوط بنانا اور ایک نیا قانونی و انتظامی نظام نافذ کرنا ہے۔
مشترکہ بیان میں واضح کیا گیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔ وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکومت کی توسیع پسندانہ پالیسیوں اور غیر قانونی اقدامات پر شدید تشویش کا اظہار کیا، جن کے باعث خطے میں تشدد اور تنازعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
بیان میں ان تمام غیر قانونی اقدامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں، دو ریاستی حل کو کمزور کرتے ہیں اور فلسطینی عوام کے اس ناقابلِ تنسیخ حق پر حملہ ہیں جس کے تحت وہ 4 جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق، مقبوضہ بیت المقدس کو دارالحکومت بنا کر ایک آزاد اور خودمختار ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسرائیل کے یہ اقدامات خطے میں امن و استحکام کے لیے جاری کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ تمام اقدامات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہیں اور ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔
مشترکہ بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرے اور اسرائیل کو مقبوضہ مغربی کنارے میں خطرناک کشیدگی بڑھانے اور اس کے حکام کے اشتعال انگیز بیانات کو روکنے پر مجبور کرے۔
آخر میں وزرائے خارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور ریاست کے قیام کو تسلیم کرنا، بین الاقوامی قراردادوں اور عرب امن منصوبے کے مطابق دو ریاستی حل پر عملدرآمد ہی منصفانہ، پائیدار اور جامع امن کا واحد راستہ ہے، جو خطے میں سلامتی اور استحکام کو یقینی بنا سکتا ہے۔
